انوارالعلوم (جلد 2) — Page 395
۳۹۵ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ براہین سے سمجھاجائے گا تو نبی کے لفظ سے نبوت کا دعوی ٰبھی اسی وقت سے سمجھا جائے گا۔اگر اس پر یہ کہا جائے کہ گونبی یا رسول کے الفاظ براہین میں موجود ہیں۔لیکن حضرت صاحب نے تو ان کو اپنے پر چسپاں کر کے اس کے معنی نبی اور رسول کے نہیں لئے تو یاد رکھنا چاہئے کہ اسی طرح عیسیٰ اور ابن مریم اور دیگر الفاظ جن سے حضرت اقدس کا مسیح موعود ہونا ثابت ہے ان کے معنی بھی حضرت صاحب نے براہین میں وہ نہیں کئے جو بعد میں ۱۸۹۱ء میں کئے۔پس اگر وہ حجت نہیں تو یہ بھی نہیں۔غرض کوئی پہلو لے لو، اس اصل کو مان کر مسیح موعود کو نعوذباللہ جھوٹا کہنا پڑتا ہے پس حق وہی ہے جو میں لکھ آیا ہوں اور جو الفاظ قرآن سے ثابت ہے لیکن اگر کسی شخص پر الہام کا دعویٰ کرنے کے بعد تیئس سال گزر جائیں تو اس کو مرتکب تقول علی اللہ کہہ سکتے۔خو اہ در میان میں وہ اور کسی قدرہی نئے دعوے کرے۔اگر اس کا امور اور صاوق اور راستباز ہو ناخداتعالی ٰکی طرف سے ہزار ہا شہادتوں سے ثابت ہو جائے۔اور تیئس سال کی وحی پاکر تقولکے الزام سے بھی بری ہو جائے۔پھر کیا ضرورت ہے کہ اس کے ہر دعوے پر تیئس سال گزریں۔ورنہ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔ایسا خیال کرنے والے کو خود حضرت مسیح موعود کےمسیح موعود ہونے اور آنحضرت ﷺکے خاتم النبین ہونے میں شک لانا پڑے گا۔۲ - اس کے بعد میں مولوی صاحب کا دوسرا اعتراض لیتا ہوں۔اس میں مولوی صاحب تحریرفرماتے ہیں کہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء تک آپ کے دعویٰ مسیحت پر تیرہ سال سے زیادہ گزر چکے تھے۔جب تیرہ سال تک مسیح موعود ایک مجدد اور محدث ہو سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ نبوت تامہ کی ضرورت مسیح موعود ہونے کے لئے نہیں ہے بلکہ ایک جزوی نبی اور ایک مجدد بھی مسیح موعود ہوسکتا ہے ، اور نبوت کا دعوی بالکل کوئی علیحدہ چیز ہے جس کا لازمی تعلق مسیح موعود کے دعوے سےکچھ نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ میں ثابت کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود شروع دن سے ہی مجد داورمحدث سے بڑھ کر تھے اور خدا تعالیٰ نے آپ کو نبی( یعنی ایسانبی جو کوئی نئی شریعت نہیں لایا اور جس کی نبوت آنحضرت ﷺ کی اتباع سے تھی) کا خطاب شروع سے ہی دیا ہوا تھا۔یہ بات تی تخط ہے کہ حضرت مسیح موعود تیرہ سال تک صرف مجدداور محدث تھے آپ شروع دعوے سے ہی نبی تھے اور یہ سوال سرے سے ہی باطل ہے اور میرے مطالب کو غلط سمجھنےسے پیدا ہوا ہے۔میں نے یہ نہیں لکھا کہ ۱۹۰۲ء میں آپ کا پہلا عہدہ منسوخ ہو کر نیاملا۔بلکہ یہ لکھا ہے اور یہی حق ہے کہ آپ پر