انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 393

نوار العلوم جلد ۲ ۳۹۳ کہیں کہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ نیا دعویٰ کرنے پر تیئس سال گزرنے چاہئیں نہ کہ ہر نئے الہام پر تو میں کہتا ہوں کہ یہ تو آپ نے اپنی طرف سے بات بنائی ہے۔قرآن کریم کی کس آیت سے یہ شرط ثابت ہے اور پھر میں کہتا ہوں کہ اس آیت کے لفظوں پر تو غور کرو۔اس میں تولو تقول لکھا ہے۔اگر ہرنئے دعوے کے بعد تیئس سال گزرنے کی شرط ہے تو اس سے زیادہ ہرالہام پر تیئس سال گزرنے کی ضرورت ہوگی۔کیونکہ آیت کے اصل الفاظ میں جھوٹے الہام کا ذکر ہے اور نبوت اس سے ضمناً ثابت ہوتی ہے اس وجہ سے کہ جو جھو ٹانبی بنے گا ضرور ہے کہ وہ جھوٹے الہام بھی بنائے۔پس آپ کی لگائی ہوئی شرط اگر کوئی شرط ہے تواصل الفاظ زیادہ مستحق ہیں کہ ان کا لحاظ رکھا جائے اور ضرور ہے کہ ہر الہام پر بھی تیئس سال گزر جائیں تب کوئی شخص اس میں سچا ثابت ہو۔نعوذ بالله من هذه الخرافات - بات یہ ہے کہ ابتدائے الہام سے مدت گنی جاتی ہے نہ کہ درمیانی دعوؤں سے اگر ابتدائی الہام کے شائع کرنے کے بعد تیئس سال گزر جائیں۔تو ایسامأمور سچا ثابت ہوگیا، ضروری نہیں کہ اس کے ہر ایک دعوے پر بھی تیئس سال گزریں۔اور جو شخص دعوے پر تیئس سال گزر جانے کی شرط لگاتا ہے۔وہ یاد رکھے کہ وہ خاتم النّبین پربھی اعتراض کرتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کو خاتم البنّین کا خطاب مدینہ میں ملا ہے۔اور خاتم النّبين سورة احزاب میں آپ کو کہا گیا ہے، جو مدینے میں اتری ہے اور چھٹے سال میں اتری ہے۔جن کے چار سال بعد آنحضرت ﷺ کا انتقال ہو گیا۔لیکن کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ دیکھوآنحضرت ﷺ کو خاتم النبّین قرار نہ دو۔ورنہ نعوزذباللہ من ذالک آپ جھوٹے ثابت ہوں گئے۔کیا ایسے انسان کو آپ عقل و خردسے کورا خیال نہیں کریں گے اگر ایسا ہی سمجھیں گے تو کیوں؟ کیا یہ بھی ایک نیاد عویٰ نہیں تھابہت سے نبی دنیا میں گزر چکے تھے کسی نے یہ دعوی ٰنہ کیا تھا۔جس سے معلوم ہوا کہ خاتم النّبین ہونا نبوت کی شرط نہیں۔بلکہ ایک الگ دعویٰ ہے اور آنحضرت ﷺ اس دعوے کے بعد چار سال میں فوت ہو گئے۔پس کیا نعوذ باللہ آپ مورد اعتراض ٹھہرے نعوذباللہ من ذلک۔نعوذ بالله من ذلک۔نعوذباللہ من ذلک۔علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر آپ اس شرط پر زور دیں۔تو جس مطلب کو حاصل کرنے کے لئے آپ نے یہ دلیل دی ہے وہ خود باطل ہو جاتا ہے۔آپ کی غرض تو اس اعتراض سے یہ ہے کہ مسیح موعود کا دعوی ٰباطل نہ ہو۔لیکن اگر آپ غور فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا۔کہ اگر اس اصل کو تسلیم کیا جائے جیسا کہ آپ کے مضمون سے ظاہر ہے کہ ہر دعوے پر تیئس