انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 235

۲۳۵ یا رونا بلکہ یہ دیکھو کہ کہنے والا کہتا کیا ہے اور اگر کوئی بات تمہیں کڑوی لگے تو اس پر غور کرو اور اگر میٹھی لگے تو اس پر عمل کر کے دکھاؤ اور لطیفہ سننے کے لئے کسی لیکچر میں نہ بیٹھو لیکچروں میں حاضر ہونے والوں میں ایک اور بھی نقص ہوتاہے اور وہ یہ کہ ہر ایک سننے والا یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں پاک اور مطہّر ہوں یہ جو وعظ ہو رہا ہے یہ میرے ارد گرد بیٹھنے والوں کے لئے ہے حالانکہ اس خیال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سارے ہی خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں اور وعظ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔پس آپ لوگوں میں سے ہر ایک شخص یہ سمجھ لے کہ میرے وعظ کا مخاطب سب سے پہلے وہی ہے اور یہ خیال کر لے جو کچھ کہا گیا ہے مجھے ہی کہا گیا ہے پس اگر کوئی ولی بیٹھا ہوتو وہ بھی میرا مخاطب ہے اور اگر کوئی گندے سے گندہ انسان بیٹھا ہے تو وہ بھی۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نہیں بلکہ دوسرے مخاطب ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔کسی بادشاہ کی نسبت لکھا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں کی اطاعت اور فرمانبرداری آزمانے کے لئے حکم دیا کہ کل رات تم سب فلاں تالاب میں ایک ایک لوٹا پانی کا ڈالنا۔وہ جب اپنے اپنے گھر گئے تو ہر ایک نے یہ خیال کر لیا ہم کہاں پانی کا لوٹا اٹھائے ہوئے جائیں۔وہ وزراء و امراء جن کو رومال اٹھانا دوبھر تھا بھلا وہ پانی کا لوٹا کس طرح اٹھا سکتے تھے ان میں سے ہر ایک نے یہ سمجھ لیا کہ میرے لوٹا ڈالنے سے تالاب تو بھر نہیں جائے گا اور ہزاروں آدمی لوٹے ڈالیں گے بادشاہ کومیرے لوٹے کا کیا پتہ لگے گا کہ اس نے ڈالا ہے یا نہیں چنانچہ ہر ایک ان میں سے یہی خیال کر کے گھر بیٹھ رہا اور کسی نے لوٹا نہ ڈالا تالاب بالکل خشک رہا بادشاہ نے جب تالاب کو دیکھا تو خشک پڑا تھا۔اس نے سب درباریوں کو ملامت کی اور کہا کہ شرم کرو کیا حکم کی تعمیل اسی طرح ہوا کرتی ہے لیکن بجائے اس کے کہ وہ شرمندہ اور نادم ہوتے ایک دوسرے کو کہنے لگے تم نے کیوں پانی کا لوٹا نہ ڈالا۔میں تو یہ خیال کر کے بیٹھ رہا کہ باقی جو ڈالیں گے تو میرے ایک لوٹا نہ ڈالنے سے کیا نقصان ہو جائے گا تم لوگوں نے سستی کر کے میری بھی ذلت کرائی اور اس طرح ہر ایک نے اپنی سستی اور نالائقی کو دوسرے کے سر تھوپنا چاہا۔اگر وعظوں کے سننے والے بھی اسی طرح اپنے دل میں خیال کریں کہ واعظ کے وعظ کے ہم مخاطب نہیں بلکہ اور لوگ ہیں تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ سب ہی کورے رہ جائیں گے لیکن جب ہر ایک شخص یہ سمجھے کہ جو کچھ کہا گیا ہے مجھے ہی کہا گیا ہے اور مجھے ہی اس کی تعمیل کرنی ضروری ہے تو سب کے سب نفع اٹھا سکیں گے۔پھر اگر کوئی ایسا بھی ہو جس کی سمجھ میں کوئی بات نہ آئے تو لَا یَشْقیٰ جَلِیْسُھُمْ کے ماتحت ہی خدا تعالیٰ اس پر بھی پردہ ڈال دے گا۔کیونکہ دوسروں کی بزرگی اور تقویٰ کی وجہ سے غریبوں کے پردے بھی