انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 236

۲۳۶ ڈھک جاتے ہیں۔مثلاً اگربادشاہ کے درباری اپنے اپنے لوٹے ڈال دیتے اور کوئی دو چار نہ بھی ڈالتے تو کیا پتہ لگنا تھا کہ انہوں نے نہیں ڈالے۔پس جو کچھ کہا جائے اس کا مخاطب ہر ایک فرد ہے بڑے سے لے کر چھوٹے تک اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ میرا ساتھی مخاطب ہے تب جا کر نفع حاصل ہوگا۔عظیم الشان بات : اب میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا شئے ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو بلاتا ہوں اور وہ کون سا نکتہ ہے جس کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔سنو! وہ ایک لفظ ہے زیادہ نہیں صرف ایک ہی لفظ ہے اور وہ اﷲ ہے اسی کی طرف میں تم سب کو بلاتا ہوں اور اپنے نفس کو بھی اسی کی طرف بلاتا ہوں اسی کے لئے میری پکار ہے اور اسی کی طرف جانے کے لئے میں بگل بجاتا ہوں۔پس جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے آئے اور جس کو خدا تعالیٰ ہدایت دے وہ اسے قبول کرے۔سب سے زیادہ حسین :دنیامیں بہت سی چیزیں ہیں۔جو بڑی حسین اور بڑی خوبصورت ہیں۔لیکن جو کوئی چیز بھی دنیا میں ممکن سے ممکن حسین ہو سکتی ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے۔خدا تعالیٰ نے ہی اس کو حسن اور خوبی دی ہے۔اس لئے اس کے حسن کو کوئی نہیں پہنچ سکتی۔مگر باوجود اس کے کہ اﷲ تعالیٰ سب سے زیادہ حسین ہے۔سب سے زیادہ پیار اہے سب سے زیادہ خیرو برکت رکھنے والا ہے۔مگر دنیا اور نااہل دنیا اس کوحقارت اور ناقدری کی نظر سے دیکھتی ہے۔وہ ربّ العٰلمین ہے اور اس کی عظمت اور دبدبہ کے سامنے سب چیزیں ہیچ ہیں۔مگر اس سے جو سلوک دنیا کر رہی ہے وہ بہت نفرت اور حقارت کے قابل ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول اپنے ایک استاد کا ذکر سنایاکرتے تھے کہ انہوں نے بھوپال میں خواب میں دیکھا کہ میں شہر سے باہر ایک پل کے پاس کھڑا ہوں وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کوڑھی پڑا ہے جس کے تمام جسم میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں۔اس پر مکھیاں بیٹھتی ہیں اور سخت تکلیف کی حالت میں ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو۔اس نے کہا میں اﷲ میاں ہوں تمہار ا خدا ہوں۔میں نے کہا ہم نے تو قرآن شریف میں اپنے خدا کی بڑی تعریفیں پڑھی ہیں کہ وہ ایسا خوبصورت ہے کہ اور کوئی اس کی مانند ہے ہی نہیں یہ آپ کی کیا حالت ہے۔اس نے آگے سے جواب دیا کہ تم یہ جو شکل میری دیکھ رہے ہو یہ میری اصل شکل نہیں ہے بلکہ بھوپال کے لوگوں کی نظروں میں میری یہ شکل ہے۔پس تم لوگ بھی اپنے دلوں کو ٹٹولو اپنے اعمال کو ،اپنی باتوں کو،اپنے اقوال کو، اپنی حرکات کو، اپنی سکنات کو دیکھو کہ