انوارالعلوم (جلد 2) — Page 234
۲۳۴ قرب الٰہی کا ذریعہ :لوگ پوچھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے قرب کا کیا ذریعہ ہے۔تم خوب یاد رکھو کہ اگر تم اس بات پر عمل کرو گے تو تمہیں اگلے جہاں میں ہی نہیں بلکہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے گا۔اور مرنے کے بعد ہی خدا تعالیٰ تم سے کلام نہیں کرے گا بلکہ اسی دنیامیں کرے گا۔مگر بہت غور سے کام لو۔میں جانتا ہوں اور یہ ایک عام رواج ہے کہ جب لوگ کوئی عمدہ لیکچر سنتے ہیں تو بعد میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ خوب مزا آیا بڑی عمدہ تقریر تھی وغیرہ وغیرہ۔لیکن وہ اس درد کو محسوس نہیں کرتے جس سے کہنے والا انہیں کہتا ہے۔لیکچر سننے کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیئے۔بولنے والے نے تواپنی جان کھپا دی لیکن سننے والوں نے صرف خوب مزا آیا میں بات اڑا دی۔آپ لوگ یہاں مزے کے لئے نہیں آئے اور نہ ہنسی کے وعظ سننے کے لئے جمع ہوئے ہو۔اگر کوئی اس غرض سے آیا ہے تو جو روپیہ اس کے آنے جانے پر صرف ہوا ہے اس کے متعلق وہ خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوگا۔پس تم ہر ایک لیکچر کو غور سے سنو اور کان کھول کر سنو پھر اس کو یاد رکھو اور اس پر عمل کرو۔میں اﷲ تعالیٰ سے اس کے لئے توفیق چاہتا ہوں کہ اگر میں بسترِ مرگ پر بھی ہوؤں تو یہی میری آخری بات ہو اور اگر کوئی میری پہلی بات ہو تو وہ بھی یہی ہو۔اس کے مقابلہ میں دنیا کی ساری باتیں ہیچ ہیں نعمتیں بے قدر ہیں مال و اموال ناکارہ ہیں اور آرام و آسائش کے سامان بے حقیقت ہیں۔آج کل یہ ایک بہت بڑا نقص پیدا ہو گیا ہے کہ عام طور پر لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ لیکچروں میں مزہ کیا آتا ہے۔مگر میرے پیارو ! تم روپیہ خرچ کر کے مزے یا تماشہ کے لئے یہاں نہیں آئے۔تمہارے یہاں آنے کی کوئی اور ہی غرض تھی اور ہم نے جو تمہیں یہاں بلایا ہے ہماری بھی کوئی اور ہی غرض تھی۔پس اگر کوئی اس غرض کو نہیں سمجھا تو وہ ہمارے لئے نہیں آیا بلکہ اپنے نفس کے خوش کرنے کے لئے آیا ہے اور جو کوئی مزہ لینے یا تماشہ دیکھنے کے لئے آیا ہے اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے اگر کسی کا ایسا خیال تھا تو وہ توبہ اور استغفار کر لے۔کیونکہ ایسا انسان جو وقت اور روپیہ ضائع کر کے وطن اور عزیزوں کو چھوڑ کر تماشہ کے لئے کہیں جاتا ہے اس کوخدا تعالیٰ کے حضور ایک ایک پیسہ اور ایک ایک لمحہ کے لئے جواب دہ ہو نا پڑے گا کہ اس نے اﷲ تعالیٰ کی نعمت کو کیوں اس طرح ضائع کر دیا۔پس اپنے سینوں کو ٹٹولو اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔لیکچر مزے کی خاطر نہ سنو۔لیکچر میں ہر قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔بعض ہنسی کی بھی ہوتی ہیں مگر تمہاری کبھی یہ خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ وعظ میں ہنسی کی باتیں ہوں اور ان کو تم اشتیاق سے سنو تم وعظ میں یہ نہ دیکھو کہ ہنسی ہے