انوارالعلوم (جلد 2) — Page 517
۵۱۷ اس طرح نبی کہا جا تا تھاتب وہ نبی ہوتے تھے اور مسیح موعود کو اس کے خلاف کسی اور طرح نبی کہاگیاہے پس وہ نبی نہیں ہوئے۔کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی یقینی وحی کی موجودگی میں کوئی شخص مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر سکتا ہے اور جو شخص انکار کرتا ہے۔اسے ضرور پہلے نبیوں کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔کیونکہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح ؑ کی نبوت جن دلائل اور جن الفاظ سےثابت ہوتی ہے ان سے بڑھ کردلا ئل اورصاف الفاظ حضرت مسیح موعود یکی نبوت کے متعلق موجود ہیں ان کے ہوتے ہوئے اگر مسیح موعود نبی نہیں تو دنیا میں آج تک کبھی کوئی نبی ہؤاہی نہیں۔اوراگر وہ دلا ئل حضرت مسیح موعود کی نبوت ثابت نہیں کرتے۔تو ہمارے سامنے وہ دلائل پیش کرو جن کے روسے کسی نبی کی نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔اگر ضد اور تعصب کو چھوڑ دیا جائے تو اس سے زبردست دلیل اور کیا ہو سکتی ہے۔کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے متواتر تیئس سال تک نبی اور رسول کے نام سے یاد کیا ہے۔میں حیران ہوں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کی نبوت پر معترض ہیں۔اتنا تو سوچیں کہ نبی بناناخدا کا کام ہے یا انسان کا۔اگر خدا کا کام ہے۔تو وہ کسی کو نبی کس طرح بنا تا ہے ، کیا ہمیں خداتعالی ٰکےکسی کو نبی بنانے کا علم اس طرح نہیں ہوتا کہ اس نے اسے نبی اور رسول کا خطاب دیا ہے ؟ اگر اسی طرح ہمیں کسی شخص کے نبی بن جانے کا علم ہوتا ہے تو کیا حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے تیئس برس نبی اور رسول کے نام سے نہیں پکارا۔پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نبی نہ ہوئے۔کیا انسان کی طاقت ہے کہ وہ خدا کے ہاتھ کو پکڑلے کہ گو تو کسی کو نبی بنائے مگر ہم اسے نہیں بننے دیں گے۔حضرت مسیح موعود پر جب لوگ اعتراض کرتے تھے کہ یہ مسیح کس طرح ہو گئے۔تو آپ جواب دیا کرتے تھے کہ یہ خدا کا کام تھا۔اس نے کر دیا۔اگر تم کو یہ فیصلہ منظور نہیں۔تو جاؤاخدا سے جنگ کرو۔میں بھی منکرین نبوت مسیح موعود سے کہتا ہوں کہ نبی بنانا خدا کا کام ہے اور اس نے اپنے حکم سے مسیح موعود کو نبی بنا دیا۔اب اگر کسی کو اس فعل الہٰی پر اعتراض ہے تو وہ خدا سے لڑے۔مگر کیا کسی کی طاقت ہے کہ جسے خداننی بنائے اسے وہ نبی ہونے سے روک دے۔یہ کسی انسان کی طاقت نہیں پس نادان ہے وہ انسان جو اللہ تعالی ٰکے فیصلے کے بعد پھر بھی مسیح موعود کی نبوت کو مٹانا چاہتاہے کیونکہ جس بات کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے کرلیا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔اور جو انعام خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو دیا ہے۔اسے کوئی واپس نہیں کر سکتا۔نبوت کی اور اللہ تعالی ٰنے خود مسیح موعود کے کاندھوں پر ڈال دی ہے۔اب کسی انسان کی طاقت نہیں کہ اس چادر کو مسیح موعود کے کاندھوں