انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 518

۵۱۸ پرسے اتارے۔(۵) پانچویں دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی جو تعریف قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے وہ آپ پر صادق آتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں فلا يظهر علی غیبہ أحدا إلا من ار تضی من رسول اللہ تعالیٰ نہیں غالب کرتا اپنے غیب پر مگر اپنے پسندید ہ بندوں یعنی رسولوں کو (یعنی کثرت سے امور غیبیہ کا اظہار رسول پر ہی کرتا ہے) اور یہ شرط حضرت مسیح موعودؑ میں پائی جاتی ہے۔یہ شرط معمولی نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم رسولوں کے سوا کسی کو اظہار على الغیب کی طاقت نہیں دیتے ہیں جبکہ اظہار على الغیب کی طاقت سِوا رسولوں کے اور کسی کو ملتی ہی نہیں اور حضرت مسیح موعود کو یہ طاقت کی ہے۔تو آپ کی رسالت اظہر من الشمس طور سے ثابت ہو جاتی ہے۔جس کا انکار کوئی ذی عقل کرہی نہیں سکتا۔کیونکہ وہ شرط جو رسولوں کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔وہ حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے۔پس آپ رسول ہیں۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود کو الله تعالی ٰنے اولوالعزم رسولوں کی مانندو طریق سے غیب پر غالب کیا ہے لیکن ایک پچھلے غیب پر اور ایک آئندہ کے غیب پر۔پچھلے غیب سےمیری مراد پچھلی پیشگوئیاں ہیں جو آپ کے وقت میں پوری ہو کر آپ کے لئے نشان صداقت ہو ئیں۔جب سے یہ دنیا چلی ہے۔سب نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کی نسبت خبر دی تھی۔کہ اس کے زمانہ میں شیطان کی اور ملائکہ کی آخری جنگ ہوگی اور بہتوں نے اس کے لئے نشان مقرر کئے تھے ، پس وہ سب نشانات جو پہلے غیب کے طور پر تھے اس زمانہ میں مسیح موعود کے ہاتھ پر پورے ہوئے ہیں۔اور یہ بھی ایک قسم کااظہار على الغیب ہے۔کہ بیسیوں پیشگوئیاں جو بصورت غیب تھیں مسیح موعود نے ان کو ظاہر کردیا ہے۔اور وہ مسیح موعود کی صداقت پر شاہد ہیں۔دوسرا طریق اظہار على الغیب کا یہ ہے کہ آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالی ٰنے ہزاروں لاکھوں نشانات دکھائے ہیں۔اور ہزاروں غیب کی خبروں کا آپ کو قبل ازوقت علم دیا ہے جو اپنے وقت پرآکر پوری ہو ئیں۔اور ہو رہی ہیں۔اور آئندہ ہوں گی پس واقعات پکار پکار کر اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ مسیح موعود میں وہ شرط پائی جاتی ہے۔جو سوائے نبیوں کے اور کسی انسان میں نہیں پائی جاتی۔علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰنے نبیوں کی نسبت یہ بھی بیان فرمایا ہے وما نرسل