انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 553

انوار العلوم جلد ۲ ۵۵۳ حقيقة النبوة ( حصہ اول) نہیں ۔ تب بھی حقیقۃ الوحی وصیت کے بعد کی ہے۔ اور اس میں یہ لکھا ہے کہ آپ کے سوا اس امت میں کوئی شخص نبی نہیں ہوا۔ اگر تطبیق دو۔ تب بھی صاف بات ہے۔ کیونکہ الوصیت ہی میں۔ اس حوالہ سے ایک صفحہ پہلے ہی حضرت مسیح موعود لکھتے ہیں کہ یہ ممکن نہ تھا کہ مرتبہ نبوت اسلا اس امت میں ایک فرد بھی نہ پاتا۔ جس سے صاف ظاہر ہے ظاہر ہے کہ آپ ایک ہی نبی خیال کرتے ہیں۔ تے ہیں۔ کیونکہ اگر آپ کے نزدیک بہت سے نبی گزرے ہیں تو آپ یوں لکھتے کہ ممکن نہ تھا کہ یہ انعام امت کے اولیاء نہ پاتے ۔ لیکن آپ نے یہ لکھا ہے کہ ممکن نہ تھا کہ تمام افراد اس انعام سے محروم رہتے ۔ اور ایک شخص بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک ایک ہی شخص نے اس مرتبہ کو پانا تھا ( اصل الفاظ دیکھو الوصیت صفحہ (1) اسی طرح اس صفحہ پر لکھتے ہیں کہ نبوت نام ہے امور غیبیہ پر اطلاع پانے کا جبکہ وہ کیفیت و کمیت میں کمال کو پہنچ جائے ۔ اور جو حوالہ کہ میں حقیقہ الوحی سے ابھی نقل کر چکا ہوں اس سے ثابت ہے کہ امت کے دوسرے لوگوں کو کثرت سے مکالمہ نہیں ہوا۔ یعنی کمیت میں کمی رہی۔ پس خود الوصیت کی رو سے ہی پہلے کوئی نبی ہونے کے لائق نہ تھا پھر ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے جبکہ نبوت کا ثبوت دو جگہ سے لیا ہے۔ ایک اپنی نسبت نبی کا لفظ لکھے ہونے سے اور ایک عُلَمَاء أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ سے تو تم حضرت صاحب کے اقوال کو اختلاف سے بچانے کے لئے یہ معنے کر سکتے ہو کہ دوسرے افراد تو كَانْبِيَاءِ بَنِی اسرائیل کے ماتحت نبی کا خطاب پانے والے تھے ۔ اور ان کی نبوت محدثوں والی نبوت تھی۔ اور حضرت مسیح موعود کی نبوت انبیاء کی سی نبوت ۔ کیونکہ ان کو نبیوں سے مشابہت دی گئی ہے۔ اور مسیح موعود کو نبی کہا گیا ہے ۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود کشتی نوح میں تحریر فرماتے ہیں :- اسی طرح یہ قرآنی دعا آنحضرت الللا کے ذریعہ سے قبول ہو کر اخیار و ابرار مسلمان بالخصوص ان کے کامل فرد انبیاء بنی اسرائیل کے وارث ٹھہرائے گئے۔ اور دراصل مسیح موعود کا اس امت میں سے پیدا ہونا یہ بھی اس دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کیونکہ گو مخفی طور پر بہت سے اخیار و ابرار نے انبیائے بنی اسرائیل کی مماثلت کا حصہ لیا ہے ۔ مگر اس امت کا مسیح موعود کھلے کھلے طور پر خدا کے حکم اور اذن سے اسرائیلی مسیح کے مقابل پر کھڑا کیا گیا ہے تا موسوی اور محمدی سلسلہ کی مماثلت سمجھ آجائے ۔ " اکشتی نوح مت ۵۵ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۵۲-۵۳) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ پہلے اولیاء اور مسیح موعود میں ایک خاص فرق ہے اور وہ یہ کہ گودہ بھی اپنے اندر ایک قسم کی مماثلت پہلے انبیاء سے رکھتے تھے۔ لیکن کامل مماثلت جو کسی شخص کو کسی