انوارالعلوم (جلد 2) — Page 554
۵۵۴ نبی سے ہوئی وہ حضرت مسیح موعود ہی ہیں۔اور آپ ہی کو حکم و ازن سے مامور کیا گیا ہے اور پہلے لوگ ایک مخفی مشابہت رکھتے تھے تو مسیح موعود کی مشابہت اس زور کی تھی کہ اپنے اندر ایک جلال رکھتی تھی۔پس ہم اس حوالہ کے ماتحت حضرت صاحب کی تحریروں میں جو بظاہر اختلاف معلوم ہوتا ہو اسے اس طرح ایک کر سکتے ہیں کہ جہاں حضرت مسیح موعودؑنے بعض افراد کو نبی کا خطاب دیا ہے لکھا ہے اس کے یہ معنی کرلیں کہ اس سے وہ نبوت مراد ہے جو کانبیا بنی اسرائیل کی حدیث سے ثابت ہے لیکن ایک مشابہت ہے۔گو وہ نبی بنائے نہیں گئے اور اس نبوت میں بھی مسیح موعود شامل ہے۔کیونکہ بڑے درجہ میں چھوٹے درجے خود آجاتے ہیں۔لیکن مسیح موعود کی نبوت اس سے الگ بھی تھی اور وہ نبوت لايظهر على غيبہ خدا کی آیت کے ماتحت تھی جس میں آپ کا شریک اور کوئی نہیں تھا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود نے خودہی لکھ دیا ہے جیسا کہ میں اوپر نقل کر آیا ہوں کہ اس نعمت کا وارث کوئی اورولی اس امت کا نہیں ہوا۔پس آیت فلايظهر على غيبہکے ماتحت تو آپ ہی نبی تھے۔اور بوجہ اعلیٰ درجہ کے مکالمه و مخاطبہ کے جسم میں اس کثرت سے اظہار على الغیب نہ ہو جو نبیوں سے مختص ہے۔دوسرے ولی بھی کمالات نبوت رکھتے تھے۔اور کانبیاء بنی اسرائیل کے مصداق تھے۔پس نبوت انبیاء تو صرف حضرت مسیح موعودؑ میں پائی جاتی تھی اور محد ثیت کی نبوت یعنی بعض کمالات نبوت کے پائے جانے کی وجہ سے جزوی نبوت اور افراد میں بھی تھی جو بوجه مشابہت نبی بھی کہے جاسکتے ہیں۔غرض کہ ایک تو یہ طریق آپ کے اقوال کی تطبیق کا ہے۔لیکن اصل حقیقت یہی ہے کہ اس جگہ حضرت مسیح موعودنے بعض افراد سے صرف اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔اور یہ بات بعید از قیاس نہیں۔کیونکہ زبان میں اس کی نظریں ملتی ہیں۔کہ بعض افراد سے ایک ہی شخص مراد لے لیا جاتا ہے۔مثلاً جب ایک شخص ایک بات بیان کرے اور سننے والا اسے پسند نہ کرتا ہو تو بعض دفعہ وہ یوں بھی کہہ دیتا ہے کہ شاید بعض افراد اسے پسند نہ کریں حالانکہ ان کی مراد صرف اپنانفس ہو تا ہے۔اگر کوئی شخص اپنے کلام پر غور کرے تو بہت دفعہ اپنے منہ سے بعض افراد یا اسی قسم کے اور الفاظ سنے گا۔جس سے صرف اس کا نفس مراد ہو گا۔غرض کہ جمع کا لفظ بعض دفعہ بولا جاتا ہے لیکن ہو تا ایک شخص ہی مراد ہے۔قرآن کریم میں ایک جگہ آتا ہے کہ کافر کہیں گے رب ارجعون اے ہمارے رب! ہمیں واپس لوٹادے جو لفظ اس آیت کے ہیں۔ان کے رو سے اس کے یہ معنی بنتے ہیں کہ اے ہمارے تین یا اس سے زیا دہ خد اؤ ! ہمیں روٹا دو - لیکن اسلام تو صرف ایک خدا کی طرف