انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 552

۵۵۲ ہیں:۔-’’اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمہ و مخاطبہ الہٰیہ اور أمور غیبیہ سے حصہ پا لیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔اس لئے خدا تعالی ٰکی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا۔جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایک شخص ایک ہی ہوگاوہ پیشگوئی پوری ہو جائے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۷) ان دونوں حوالوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلے صلحائے امت کو امور غیبیہ پر اس کثرت سے اطلاع نہیں دی گئی تھی کہ وہ نبی کہلا سکیں۔اور یہ کہ ایسا شخص ایک ہی ہے۔اور یہ کہ اگر پہلے صلحاء کو بھی اس نعمت نبوت سے حصہ دیا جاتا تو ختم نبوت کا امر مشتبہ ہو جاتا ہے۔اب خدارا ان عبارتوں پر غور کرو۔اور سوچو کہیں تم ختم نبوت کے امر کو مشتبہ تو نہیں کر رہے۔حضرت مسیح موعود تو فرماتے ہیں کہ پہلے صلحاء کو نبی قرار دینے سے ختم نبوت کا امر مشتبہ ہو جا تا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قدر کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع نہیں دی کہ وہ نبی ہو سکتا۔پس جب اللہ تعالی ٰنے ان کو نبوت نہیں دی تو کیوں تم ان کو نبی قرار دیتے ہو۔تمہارے خیال میں تو الله تعالیٰ بھی اب کی کو نبوت نہیں دے سکتا۔مگر اپنی طاقتوں کے سمجھنے میں کیوں دھوکا کھاتے ہو اور کیوں خدا تعالیٰ کے اختیار کو ہاتھ میں لے کر پہلے صلحاء کو نبوت تقسیم کر رہے ہو۔بعض لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں صاف لکھ دیا ہے کہ " پس اس طرح پر بعض افراد نے باوجود امتی ہونے کے نبی ہونے کا خطاب پایا۔‘‘جس سےثابت ہوتا ہے کہ آپ کے سوا کچھ اور لوگوں نے بھی نبوت کادر جہ پایا ہے سو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت صاحب نے جب صاف الفاظ میں لکھ دیا ہے کہ سوائے میرے اس امت میں اور کوئی اس د رجہ کو نہیں پہنچا۔اور پھر اس پر دلیل بھی دی کہ اس لئے کوئی شخص نبی نہیں ہوا کہ کسی نے اس قدر کثرت سے غیب پر اطلاع نہیں پائی جو نبوت کے لئے شرط ہے تو اب وہ معنے جو خود حضرت مسیح موعود کے کلام کے خلاف ہوں کس طرح جائز ہو سکتے ہیں۔بہرحال وہی معنے کرنے چاہیں جو آپ کے کلام سے ثابت ہوں۔اور آپ کے کلام سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آپ کے سوا کسی نے منصب نبوت نہیں پایا تو اب یا تو میں ایسے معنے تلاش کرنے چاہئیں جن سے دونوں حوالے سچے ہو جائیں۔یا یہ کہ ایک ناسخ ہو ایک منسوخ۔اگر ناسخ منسوخ قرار دو جو میرے نزدیک درست۔