انوارالعلوم (جلد 2) — Page 519
۵۱۹ المرسلين الامبشرین ومنذرین یعنی ہم رسولوں کو جو بھیجتے ہیں تو ان کا کام تبشیری اور انذاری رنگ کی پیشگوئیاں کرنا ہوتا ہے۔اس آیت میں اظہار على الغیب کی اللہ تعالیٰ نے تفسیر فرما دی ہے کہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع ملنے سے یہ مراد ہے۔کہ وہ قوموں کی ترقیوں اور تباہیوں کے متعلق ہوں۔اور یہ شرط بھی حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے۔پس آپ بموجب فرموده قرآن کریم نبی ہیں۔(۶) چھٹی دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی یہ ہے کہ اگر آپ کو نبی نہ مانا جائے۔تو ایک خطرناک نقص پیدا ہو جاتا ہے جو انسان کو کافر بنا دینے کے لئے کافی ہے یعنی یا تو اللہ تعالیٰ پر نعوذ باللہ من ذلک غلط بیانی کااتہام لگانا پڑتا ہے یا حضرت مسیح موعود پر جھوٹ کا الزام اور اللہ تعالیٰ تو وہ پاک ذات ہے کہ جو سب خوبیوں کی جامع ہے۔اور سب بدیوں سے منزّہ ہے۔اور بدی تو الگ رہی۔بد کن سے بھی بیزار ہے۔اور نیکی اور خوبی تو اس کی پیدا کی ہوئی ہے۔اس کے سب کام اچھے اور ہر بات خیروالی ہے۔قرآن کریم میں اس کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے کہ له الأسماء الحسنی سب اچھے نام ہی اللہ کے لئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی نقص منسوب کرنا اول درجہ کا کفر ہے۔کہ اس سے بڑھ کر کفر اور کوئی نہیں۔کیونکہ جو شخص خداتعالی ٰکو نہیں مانتا۔وہ تو پھر بھی معذور ہے لیکن جو شخص اسے مان کر پھر اس کی طرف نقص اور بدی کو منسوب کرتا ہے۔اس سے بڑھ کر خبیث النفس اور کوئی نہیں۔اسی طرح مسیح موعود خدا تعالیٰ کا پیارا ہے۔اور اللہ تعالیٰ گندوں اور بد کاروں اور فاسقوں کو اپنا پیارا نہیں بناتا۔کیونکہ وہ خود پا ک ہے۔اور پاکوں سے ہی تعلق رکھتا ہے۔اس کا رحم سب دنیا پر وسیع ہے۔لیکن اس کا خاص تعلق اور اس کی رضاء کے مستحق صرف نیک اور راستباز انسان ہی ہوتے ہیں۔اور چونکہ مسیح موعود اس کے مقرّب بندوں میں سے ہے اس لئے اس کے صادق اور راستباز ہونے میں بھی کوئی شک نہیں ہو سکتا۔اور جو شخص اسے کاذب قرار دے۔وہ بھی سخت خطرہ کی حالت میں ہے۔اور حضرت مسیح موعود کو نبی نہ قراردینے پر اللہ تعالیٰ یا مسیح موعود دونوں میں سے ایک پر ضرور الزام لگانا پڑتا ہے۔اور ہر دو باتیں انسان کے تباہ کر دینے والی ہیں مجھے یقین ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کیا ہے انہوں نے بھی اس امر پر پورا غور نہیں کیا۔ورنہ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ان میں سے بہت سے حق پسند اور نیک فطرت اور سعید انسان اس خیال سے فور۱ً توبہ کر لیتے۔اور اپنے عقیدہ پر پشیمان ہوتے اور پچھتاتے۔اور مجھے امید ہے کہ جب ان لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح موعود ؑکی