انوارالعلوم (جلد 2) — Page 520
۵۲۰ نبوت کا انکار کر کے کیسے خطرناک نتائج پیدا ہو جاتے ہیں تو وہ ضرور توبہ کرلیں گے کیونکہ راستباز انسان جب ایک امریکی صدات کو معلوم کرے۔تو فوراً اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جا تا ہے۔اور ایک دم کے لئے بھی اس سے دور ہو نا پسند نہیں فرماتا۔ہاں جو لوگ دھڑہ بندی اور خود پسندی سے کام کرنے والے ہوں۔ان کا کوئی علاج نہیں۔اور ان کے بانے سے دین کو کوئی تقویت بھی حاصل نہیں ہوتی۔بہرحال جس امر کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ فلا يظهر على غيبه أحدا من ارتضى من رسول اللہ تعالیٰ کسی شخص کو غیب پر کثرت سے اطلاع نہیں دیتا۔مگر اپنے رسولوں کو۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ الله تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ یہ ہمار ی سنت ہے کہ سوائے رسولوں کے ہم کسی پر کثرت سے غیب ظاہر نہیں کرتے۔اب اس آیت کے مقابلہ پر حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتب میں بار بار فرماتے ہیں جیسا کہ میں فصل دوم میں حوالہ نقل کر چکا ہوں کہ آپ پر کثرت سے اظہار غیب کیا گیا ہے۔اب ہمارے لئے سوائے دو راہوں کے اور کوئی راہ نہیں۔۱۔اول تو یہ بات مان لیں کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے اور آپ کا یہ فرمانا کہ مجھ پرکثرت سے اظہار غیب ہوا ہے۔قرآن کریم کے مخالف نہیں بلکہ عین مطابق ہے۔کیونکہ قرآن کریم بھی یہی فرماتا ہے کہ اللہ تعالی ٰکثرت سے اظہار غیب سوائے رسولوں کے اور کسی پر نہیں کرتا۔۲- دوسری صورت یہ ہے کہ ہم اس بات پر اصرار کریں۔کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے۔مگر اس صورت میں ہمیں دو باتوں میں سے ایک بات قبول کرنی ہوگی۔اول یہ بات کہ نعوذ باللہ من ذالک اللہ تعالی ٰنے قرآن کریم میں یہ بات غلط بیان فرمائی ہے کہ وہ سوائے رسولوں کے اور کسی کو اظہار على الغیب کا مرتبہ نہیں عطا فرما تا حالا نکہ واقعات نے اس کی صریح تردید کر دی۔کہ مرزا صاحب کو جو غیرنبی ہیں۔اس نے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی ہے جو قرآن کریم کے بیان کے صریح خلاف ہے۔پس ایک تو یہ بات ہے۔جو مرزا صاحب کی نبوت کا انکار کرنے والے کہہ سکتے ہیں۔کیونکہ اس کے بغیر مسیح موعود کی نبوت سے انکار نہیں کیا جا دوم - ہاں ایک اور راہ بھی ہے۔جو مسیح موعود کی نبوت کے منکر اختیار کر سکتے ہیں۔اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف تو غلط بیانی کو منسوب نہ کریں۔اور نہ قرآن کریم کی تکذیب کریں۔بلکہ یوں کہہ