انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 371

انوار العلوم جلد ۲ ۳۷۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) کاتب کا ہے۔ اور ملاحظہ کتاب سے اس کی اصلیت معلوم ہو رہی ہے۔ میں اس وقت سے یہاں مستقل رہائش رکھتا ہوں۔ اور تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ اور تریاق القلوب تھوڑے تھوڑے۔ عرصہ کے بعد مرةً بعد اُخریٰ شائع کی گئی ہیں۔ مگر طبع شدہ پہلے کی موجود تھیں۔ جو باوجود یہاں کی موجودگی کے اس کے خلاف لکھتا ہے اور عمد اجھوٹ بولتا ہے وہ لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ کے ثواب کا مستحق بنتا ہے۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى۔ الراقم مهدی حسین خادم المسیح مهاجر قادیان بعلم خود وَاللهِ بِاللهِ ثُمَّ تَالله کہ میں بخوبی جانتا ہوں اور مجھے بخوبی یاد ہے ۔ اور میرے سامنے کا واقعہ ہے کہ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو حکیم فضل الدین صاحب مرحوم نے شفاخانہ حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب میں آکر حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ اس وقت مطبع کوئی قریباً تیرہ سو روپیہ کا مقروض ہے۔ اور باعث اس کا یہ ہے کہ تریاق القلوب اور اور چند کتابیں بالکل تیار پڑی ہوئی ہیں۔ اور حضرت صاحب کو نہ ان کی اشاعت کا خیال آتا ہے اور نہ کوئی توجہ دلاتا ہے۔ اور بعض تو مقدمات وغیرہ کے باعث رکی پڑی ہیں۔ اور ان سب پر بہت سا روپیہ لگا ہوا ہے اور جب تک وہ شائع نہ ہ انہ ہوں۔ تب تک مطبع کا چلانا بہت ہی دشوار ہے۔ ہے۔ جو ابھی نا تمام ہیں ار نا تمام ہیں ان کو تو جانے دیجئے۔ مگر تریاق القلوب وغیرہ تو بالکل ختم ہیں۔ فقط بعد میں ایک دو سطریں لکھ کر مضمون کو ختم کر دیتا ہے اور بس۔ اس پر مولانا صاحب نے وہ حساب کا کاغذ بھی لے لیا اور حکیم صاحب کو فرمایا کہ میں حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کردوں گا۔ چنانچہ اس کے بعد حضرت مولوی صاحب نے میرے سامنے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ تریاق القلوب کا مسودہ پیر منظور محمد سے لے کر میرے پاس بھیج دینا کہ میں اس کے آخری مضمون کو دیکھ کر چند سطریں لکھ کر مضمون کو ختم کردوں گا۔ چنانچہ وہ مسودہ لایا گیا۔ تو اس میں سے کوئی ایک صفحہ کا مضمون باقی تھا تو حضرت صاحب نے اس کے ساتھ چند سطریں اور لکھ کر مضمون کو ختم کر دیا تو پہلے جو کتاب تریاق القلوب مدت دراز سے چھپی ہوئی موجود تھی۔ اس کے آخر میں اس مضمون سے ایک ورق نیا چھاپ کر لگا دیا گیا۔ اور کتاب شائع ہو گئی۔ چنانچہ اس عرصہ میں اور بہت سی کتابیں جو پہلے کی ہیں شائع کی گئی ہیں۔ اور یہ ایسا مشہور واقعہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کو بھی ضرور معلوم ہو گا۔ اور میں یقین نہیں کر سکتا کہ وہ اس سے انکار کریں۔ (محمد سرور شاه احمدی تعلیم خود ۴ ار فروری ۱۹۱۵ء)