انوارالعلوم (جلد 2) — Page 372
۳۷۲ بسم الله الرحمن الرحيم میں جو مقدمہ کلارک سے حضرت مسیح موعود ؑکے حالات تقریروں، الہامات اور پیشگوئیوں اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ضروری اور اہم واقعات کو شائع کرنے والا ہوں اور ۱۸۹۸ء سے خداکےفضل و کرم سے مستقل طور پر دارالامان قادیان میں رہنے کی سعادت رکھتا ہوں۔اور چشم دیدواقعات کے شائع کرنے کا مجھے جا ئز فخر حاصل ہے بطور ایک وقائع نگار کے۔اور سلسلہ کے حالات سے واقف کار کی حیثیت میں جو (الحکم کی گذشتہ ۱۸ مجلدات سے ظاہر ہے) محض خدا کی رضا اور حق کے اظہار کے لئے خدا تعالیٰ کو حاضر نا ظر یقین کر کے اور اس کی قسم کھا کر اپنے صحیح علم کی بناء پر شہادت دیتا ہوں کہ کتاب تریاق القلوب جس کا پورا نام شروع میں تریاق القلوب و جاذب الارواح الیٰ حضرت المحبوب تھا۔۱۸۹۹ء کی جولائی میں حضرت مسیح موعودؑ نے لکھی۔اور پہلی مرتبہ ۳۱جولائی ۱۸۹۹ء کے الحکم میں اس کا اعلان ہوا۔یہ کتاب ابتداًء ایک مختصر سار سالہ تھا۔جو لاہوری ملہم کے ایک خط کی بناء پر جو اوائل جولائی ۱۸۹۹ء میں آیا لکھا گیا تھا۔ابتداًوہ صرف ۲۳ صفحہ پر یکم اگست کو ختم ہو چکی تھی۔مگر پھر حضرت اقدسؑ کو خیال آیا کہ اس میں لیکھرام کے نشان کو شامل کردیا جارے۔چنانچہ بطور ضمیمہ اس کو لگایا گیا۔اور خیال تھا کہ اگست ۱۸۹۹ء تک کے نشانات جو بڑے بڑے ہیں بطور ضمیمہ نمبر۲ لگاے جاویں۔حضرت اقدسؑ کا معمول درباره تصنیف کتب یہ تھا کہ ایک کتاب شروع ہو کر بیچ رہ جاتی۔اور اور شائع ہوتی جاتی تھیں۔اس خصوص سے تریاق القلوب بھی باہر نہ تھی۔چنانچہ ۹/ تمبر ۱۸۹۹ء کے الحکم میں اس کے متعلق اطلاع شائع کر دی گئی کہ اشاعت پر اطلاع دی جائے گی۔کتاب مذکور 1898ء میں ختم ہوگئی تھی۔یعنی جس قدر مسودہ حضرت نے دیا تھا قتادہ لکھا جا کر طبع ہو گیا۔مگر پھر اور کتابوں کے سلسلہ نے اس سلسلہ کو معرض التواء میں ڈال دیا۔یہاں تک کہ ۱۹۰۱ء میں مطبع کا انتظام بوجوہات حکيم فضل الدین مرحوم کو دیا گیا۔جس کا باضابطہ اعلان الحکم میں بھی ہوا۔چونکہ بہت سی نا تمام کتابیں پڑی ہوئی تھیں۔حکیم صاحب نے اقتصادی اور مالی حالات مطبع کے لحاظ سے حضرت اقدس ؑکو توجہ دلائی کہ ان کتب کو شائع کر دیا جاوے۔اس لئے حضرت صاحب نے تریاق القلوب کا ایک مصفحہ اور لگا کر اور ٹائٹل چھپوا کر شائع کر دیا۔یہ ۱۹۰۲ء کا واقعہ ہے۔اکتوبر ۱۹۰۲ء کو