انوارالعلوم (جلد 2) — Page 370
۳۰ دیکھا تو اس بچے ہوئے مضمون کے ساتھ ایک صفحہ اور بڑھاکر کتاب کو ختم کر دیا گیا تھا۔میں حلفیہ کہتا ہوں کہ تمام تریاق القلوب میں صرف ٹائٹل کا صفحہ اور صفحہ ۱۵۹- اور صفحہ ۶۰ایعنی کل تین صفحے دوسرے کاتب کے لکھے ہوئے ہیں۔اور باقی کل تریاق القلوب مع ضمیمہ نمبر۳ و ضمیمہ نمبر و ضمیمہ نمبر۵میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔فقط به منظور بقلم خود۔بسم الله الرحمن الرحيم - نحمد و نصلی على رسوله الكريم میں حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ تریاق القلوب کاصفحہ ٹائٹل پیج (PAGE اور آخری ورق یعنی صفحہ۱۵۹- اور صفحہ ۱۶۰ میرے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔اور حکیم فضل الدین صاحب مرحوم نے مجھے مضمون دیا تھا کیونکہ ان دنوں میں میں ان کے ماتحت کام کیا کرتا تھا۔اور اس سے پہلے تریاق القلوب مسلم ۵۸ایک مدت سے چھپی ہوئی پڑی تھی۔جب میں نے ٹائٹل PAGE اور آخری ورق لکھا تب یہ کتاب شائع ہوئی۔عاجز کرم علی کاتب ریویو آف ریلیجنز قادیان میں مرزا محمد اسماعیل بیگ جو ضیاء الاسلام میں پریس مین تھا۔شہادت دیتا ہوں کہ تریاق القلوب میں نے چھاپی۔اور چھپ کر ایک مدت تک پڑی رہی۔پھر اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ٹائٹل اور صرف آخری ورق یعنی صفحہ ۱۵۹ اسفحہ ۱۶۰ چھاپ کراسے شائع کر دیا گیا۔مرزا محمد اسماعیل بیگ سابق پریس مین أشهدان لا الہ الا الله وحده لا شریک واشهد ان محمدا عبده ور سوله میں دسمبر ۱۹۰۰ء میں قادیان میں آیا تو تریاق القلوب اور تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ طبع شده تھیں۔جن کی فرمہ شکنی مولوی برہان الدین صاحب مرحوم جہلمی اور ڈاکٹر محمداسماعیل خان صاحب کی کوشش سے مہمانان نو وارد کیا کرتے تھے۔صرف کسی قدر باقی تھی جو بروقت اشاعت بعد میں لکھوائی گئی۔اور ۱۹۰۱ء میں جب میں ہجرت کر کے یہاں آیا تو بھی یہ کتابیں شائع نہیں ہوئی تھیں۔پر ۱۹۰۲ء میں جب ان کی اشاعت کی ضرورت ہوئی تو منشی کرم علی صاحب کا تب سے ٹائٹل اور ایک ورق آخری لینی صفحہ ۱۵۹ تا ۱۶۰ لکھواکر کتاب شائع کی گئی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ۱۹۰۰ء میں یہ کتاب قریباً ساری چھپی ہوئی تھی۔کسی قدر مضمون باقی مانده پیچھے سے لکھوایا گیا جو دو سرے