انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 369

۳۹۹ تھے۔پس صفحہ ۱۵۸ تک ساری کتاب کا پیر صاحب کے ہاتھوں سے لکھا جاتا اور صرف آخری دو صفحات کا منشی کرم علی صاحب کے ہاتھ سے لکھا جانا ثابت کرتا ہے کہ ان دو صفحوں کے علاوہ باقی سب کتاب یقینا ۱۹۰۰ء تک لکھی جا چکی تھی۔اور حضرت صاحب نے اپنے فروری ۱۹۰۰ء کے خط میں تریاق القلوب کے جس حصہ کی نسبت لکھا ہے کہ وہ تیار پڑا ہے وہ صفحہ ۵۸ا تک کا ہے اور صرف دو صفحات کامنشی کرم علی صاحب کے ہاتھ سے لکھوایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف وہی بعد میں لکھوائے گئے۔اور ان دو صفات کے ان سے لکھوانے کی بھی ایک وجہ تھی۔اور وہ یہ کہ جیسا کہ جناب مولوی صاحب کو معلوم ہو گا۔اس تاخیر کے عرصہ میں پیر صاحب سخت بیمار ہو گئے تھے۔اور جوڑوں کے درد کی وجہ سے کتابت کے بالکل نا قابل ہو گئے تھے۔پس جب عرصہ تاخیر کے بعد کتاب دوبارہ لکھوانی شروع کرائی گئی تو پیر صاحب سے بقیہ مضمون لے کر جس کے آخر میں حضرت صاحب نے چند سطریں اور لکھ دی تھیں منشی کرم علی صاحب کا تب سے آخری دو صفحات لکھوائے گئے۔اور کتاب شائع کر دی گئی۔چنانچہ آپ کی تجربہ کار کاتب سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ تریاق القلوب کو بغور مطالعہ کر کے دیکھے۔اور بتائے کہ کیا واقع میں کتاب تریاق القلوب ساری کی ساری سوائے آخری دو صفحوں اور ٹائٹل کے صفحہ کے ایک کاتب کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے یا نہیں؟ ۷- ساتواں ثبوت یہ کہ صرف تحریرات کانی فرق نہیں بلکہ تریاق القلوب کے دونوں کاتب اور پریس مین اس وقت بفضل خدازنده موجود ہیں۔اور ان کے علاوہ اور بہت سے لوگ ہیں۔جن کے حافظہ میں یہ واقعات اچھی طرح محفوظ ہیں۔ان کی شہادتوں سے یہ امرپایہ ثبوت کو پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ میں جناب مکری صاجزادہ پیر منظور صاحب ،منشی کرم علی صاحب اور مرزا اسماعیل بیگ صاحب پریس مین جن کی شہادتیں اور چند اور واقف حال گواہوں کی شہادتیں ذیل میں درج کرتا ہوں۔بسم الله الرحمن الرحيم - نحمد و نصلی على رسوله الكريم میں خدا تعالی کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ تریاق القلوب صفحہ ۱۵۸ تک میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔یہاں تک لکھنے اور چھپنے کے بعد تریاق القلوب بہت مدت تک چھپنے اور شائع ہونے سے رکی رہی۔پھر اس کے بعد ۱۹۰۲ء میں جب اس کتاب کی اشاعت ہونے لگی توآخری کاپی سے بچا ہوا کچھ مضمون میرے پاس پڑا ہوا تھا جو قریب ایک صفحہ کے تھاوہ میں نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو دے دیا۔جو دو سرے کاتب سے لکھوایا گیا۔چھپنے کے بعد جب میں نے