انوارالعلوم (جلد 26) — Page 13
انوار العلوم جلد 26 13 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء اُس کی دھجیاں بکھیر دیں اور مسلمانوں نے فتویٰ لگایا کہ یہ میسٹی کی ہتک کرتا ہے۔عجیب متضاد خیال ہیں۔ایک طرف یہ الزام کہ عیسائیوں کی خوشامد کرتے ہیں اور دوسری طرف علماء کا یہ الزام کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کرتا ہے۔اب دونوں میں سے کس کو سچا ما نہیں؟ اُن کو سچا مانیں جو کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کی ہتک کرتا ہے یا ان کو سچا ما نہیں جو کہتے ہیں کہ عیسائیوں کی خوشامد کرتا ہے۔وہ خوشامد کیا تھی ؟ یہی تھی کہ اُن کی ملکہ کو اسلام کی تبلیغ کی۔اور پھر آپ نے عربی میں ایک قصیدہ شائع کیا اور اس میں دعا کرتے ہوئے لکھا کہ اے خدا ! ان عیسائیوں کی دیوار میں گرادے، ان کے قلعے گرادے، ان کی گڑھیاں 2 گرا دے اور ان کے اوپر آسمان سے وہ عذاب مسلط کر کہ ان کے در و دیوار ہل جائیں۔اگر یہ تعریف ہوتی ہے تو تم بھی ذرا کسی مولوی کو کہو کہ وہ اب یہی اعلان کرے جب کہ پاکستان کی گورنمنٹ ہے۔لیکن کسی کو جرات نہیں۔صرف اُن باتوں کو لیتے ہیں جن باتوں کو سمجھنے کی قابلیت نہیں اور ان باتوں کو نہیں لیتے جو تعریف کی مستحق تھیں۔آخر کسی قوم کی تعریف کیا اس طرح ہو سکتی ہے؟ کیا یہ بھی کوئی تعریف ہوتی ہے کہ خدایا ! ان پر غضب نازل کر۔خدایا ! ان کے قلعوں کی دیواریں توڑ دے۔اے خدا ! ان پر ایسی قوم کو حاکم بنادے جو ان کو ذلیل اور رسوا کر دے؟ تو انہوں نے تو انگریزی حکومت کے تباہ ہونے کی دعا کی ہے انگریزوں کی تعریف کرنے کے کیا معنے ہوئے۔اگر انگریزوں کی تعریف کی ہے تو اس طرح کی ہے جس طرح نجاشی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی تھی۔جس طرح مکہ کے بعض سرداروں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی تھی لیکن نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی اعتراض کرتا ہے اور نہ مسیح ناصری پر اعتراض کرتا ہے جس نے قیصر کی تعریف کی۔بس لے دے کے ایک مرزا صاحب کی جان رہ گئی ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت میں صرف کر دی۔بس ان کی زبانیں اس پر چل جاتی ہیں اس لئے کہ احمدی تھوڑے ہیں۔مگر یہ تھوڑے نہیں رہیں گے یہ بڑھیں گے اور پھلیں گے اور اُس وقت تم کو نظر آئے گا کہ تم تھوڑے ہو اور احمدی زیادہ ہیں۔اس کے بعد میں دعا کروں گا۔آج کل اپنی بیماری کی وجہ سے میرے دل پر اتنا اثر ہے کہ جب کوئی جنازہ آتا ہے یا مسجد میں جنازہ پڑھاتا ہوں تو اُس جنازہ میں اپنے آپ کو بھی اور پیچھے