انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 14

انوار العلوم جلد 26 14 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء جولوگ کھڑے ہوتے ہیں اُن کو بھی شامل کر لیتا ہوں اور پھر ساری جماعت کو شامل کرتا ہوں۔مُردوں کو بھی اور زندوں کو بھی کہ کبھی تو وہ مریں گے ہی اور کہتا ہوں کہ اے خدا ! سب مُردوں کو بھی بخش اور ہم زندوں کو بھی بخش دے کہ ہم بھی کسی دن مر کے تیرے سامنے حاضر ہونے والے ہیں۔تو مجھ کو بھی اور میرے پیچھے جو جنازہ پڑھ رہے ہیں ان کو بھی اور وہ ساری جماعت جو سارے پاکستان یا ہندوستان یا ہندوستان سے باہر پھیلی ہوئی ہے اور امریکہ اور یورپ میں پھیلی ہوئی ہے اُن سب کو معاف کر اور ان سب کے لئے اپنے فرشتوں کو حکم دے کہ جب وہ مریں تو وہ ان کے استقبال کے لئے آئیں اور ان کو عزت کے ساتھ تیری جنت میں داخل کریں۔اور کوئی وقت ایسا نہ آئے جب وہ گھبرائیں۔ہر لحظہ اور ہر سیکنڈ تو ان کے ساتھ رہیو اور مرنے کے وقت جوا کیلا ہونے اور تنہائی کا وقت آتا ہے وہ ان پر کبھی نہ آئے بلکہ ہمیشہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح یہ کہتے رہیں کہ اِنَّ الله مَعَنَا 10۔خدا ہمارے ساتھ ہے ہم اکیلے کوئی نہیں۔ہمارے بیوی بچے اگر چھٹ گئے ہیں تو بیوی بچوں میں کیا طاقت تھی خدا ہم کومل گیا ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے اور ہمارا سب سے زیادہ قریبی اور سب سے زیادہ ہمارا محبوب ہے۔تو ہمیشہ ہر جنازہ میں میں ساری جماعت کو شامل کر لیتا ہوں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بھی ایک دفعہ جنازہ پڑھایا تو فرمایا آج ساری جماعت جو پیچھے جنازہ پڑھ رہی تھی میں نے ان سب کا بھی جنازہ پڑھ دیا ہے۔تو میں نے اس سنت کو دیکھ کر کہا کہ اب تو جماعت بڑی پھیل گئی ہے، اب تو اتنی جماعت نہیں رہی جو پیچھے کھڑی ہوتی۔وہ زمانہ تو ایسا تھا کہ تھوڑے احمدی تھے اس لئے اب مجھے چاہیے کہ دنیا میں جہاں جہاں بھی احمدی ہیں اُن ساروں کو جنازہ میں شامل کر لیا کروں تا کہ جب بھی وہ مریں یہ جنازہ کی دعائیں ان کے کام آئیں اور اللہ تعالیٰ ان کا مددگار ہو اور اگلے جہان میں ان کو سکھ اور چین نصیب ہو اور اس دنیا میں ان کی اولاد دین کی خدمت کرنے والی ہو اور دنیا میں چاروں طرف پھیل کر اسلام کی روشنی کو پھیلائے۔کل کی تقریر کے متعلق میں نے یہ تجویز کی ہے اور آئندہ کے لئے بھی اِنْشَاءَ اللهُ اِس پر عمل کیا جائے گا کہ ایسی تقریروں کا امتحان لیا جائے گا اور ان پر انعام مقرر ہوا کرے گا۔سوچونکہ تقریر دیر سے چھپتی ہے اس لئے میری یہ تجویز ہے کہ تقریر سے پہلے تمام دوست عام طور پر اور