انوارالعلوم (جلد 26) — Page 526
انوار العلوم جلد 26 526 ہمارا جلسہ سالانہ شعائر اللہ میں سے ہے۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ اس کے ماننے والے لاکھوں سے کروڑوں اور پھر کروڑوں سے اربوں ہو جائیں گے اور اُس صداقت از لی کا شکار ہو جائیں گے جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔پس یہ ترقی تو ایک لازمی چیز ہے اور یقینا یہ ایک دن ہوکر رہے گی لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جب کسی مومن کو اللہ تعالیٰ کا کلام پورا کرنے کا کوئی موقع میسر آ جائے تو یہ اس کے لئے انتہائی خوشی کا موجب ہوتا ہے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اسے اپنے کلام کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ بنا کر اس کے لئے بھی اپنی رحمت اور بخشش کا سامان پیدا کر دیا ہے۔دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ الہی پیشگوئیاں جن وجودوں سے پوری ہوتی ہیں یا جن مادی نشانات کے ذریعہ اس کی جلوہ نمائی ہوتی ہے قرآن کریم نے انہیں شعائر اللہ قرار دیا ہے اور شعائر اللہ کی عظمت ملحوظ رکھنا تقوی اللہ میں شامل ہے۔اور چونکہ ہمارا یہ جلسہ جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت رکھی گئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے نشانوں میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے اس لئے یہ بھی شعائر اللہ میں سے ہے۔اور ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس کی عظمت کو پوری طرح ملحوظ رکھے اور اس کی برکات سے صحیح رنگ میں مستفیض ہونے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے کہ امریکہ کا ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ملاقات کے لئے قادیان میں آیا اور اس نے کہا کہ آپ مجھے اپنی صداقت کا کوئی نشان دکھا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے فرمایا آپ خود میری صداقت کا ایک نشان ہیں۔اُس نے کہا یہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اُس وقت جب مجھے قادیان سے باہر کوئی بھی نہیں جانتا تھا الہاما بتایا تھا کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ 1 یعنی اللہ تعالیٰ دور دراز علاقوں سے تیرے پاس آدمی بھیجے گا اور وہ اتنی کثرت سے آئیں گے کہ جن راستوں پر وہ چلیں گے اُن میں گڑھے پڑ جائیں گے۔