انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 525

انوار العلوم جلد 26 525 ہمارا جلسہ سالانہ شعائر اللہ میں سے ہے۔ہمارا جلسہ سالانہ شعائر اللہ میں سے ہے اور صداقت حضرت مسیح موعود کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔(سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی املاء کردہ یہ افتتاحی تقریر مؤرخہ 26 دسمبر 1961ء کو حضور کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنائی ) " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ اللہ تعالیٰ کا بے حد و بے حساب شکر ہے کہ اُس نے محض اپنے فضل سے ہماری جماعت کے دوستوں کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ اپنی عمروں میں سے ایک اور سال کے اختتام پر دین اسلام کی تقویت اور اعلائے کلمتہ اللہ کی غرض سے اُس مرکزی اجتماع میں شریک ہوں جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اُس کے مامور ومرسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آج سے 70 سال قبل رکھی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو قائم کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو دنیا خواہ کتنا زور لگائے وہ اُسے مٹانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔دشمن اس کے خلاف شور بھی مچاتے ہیں ، منافق اس کے متعلق اعتراضات بھی کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے کام ہمیشہ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہی بات جسے انہونی قرار دیا جاتا ہے ایک حقیقت بن کر ظاہر ہو جاتی ہے۔اور وہی جماعت جسے حقارت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے آخر اپنے دلائل اور براہین کی رو سے تمام دنیا پر غالب آجاتی ہے۔یہی سنت اس زمانہ میں ہماری جماعت کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔ہر دن جو ہم پر طلوع کرتا ہے وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ کامیابیوں اور عروج سے ہمکنار کرتا چلا جاتا ہے