انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 527

انوار العلوم جلد 26 527 ہمارا جلسہ سالانہ شعائر اللہ میں سے ہے۔اب آپ بتائیں کہ کیا میرے دعوی سے قبل آپ میرے واقف تھے ؟ اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا پھر آپ جو یہاں میرا دعویٰ سن کر آئے ہیں تو الہی تصرف کے ماتحت ہی آئے ہیں۔پس آپ خود میری صداقت کا ایک نشان ہیں۔اسی طرح آپ لوگ جو یہاں جمع ہوئے ہیں آپ میں سے بھی ہر فرد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہے۔کجا وہ زمانہ تھا کہ قادیان میں جب پہلا سالانہ جلسہ ہوا تو اُس میں صرف 75 آدمی شریک ہوئے اور کجا یہ زمانہ ہے کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے نصف لاکھ سے زیادہ مخلصین اس جلسہ میں شریک ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے اور دنیا کے سامنے اس امر کا کھلے بندوں اعلان کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہو گیا۔مگر سلسلہ کی یہ عظیم الشان ترقی جہاں ہمارے دلوں کو خوشی سے لبریز کر دیتی ہے وہاں غم واندوہ کی ایک دردناک تلخی بھی اس میں ملی ہوئی ہے۔کیونکہ یہ خوشی جس مقدس انسان کے طفیل ہمیں میسر آئی وہ آج اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔خود میرے احساسات کی تو یہ حالت ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے سلسلہ کی خدمت کی اور اس دنیا سے گزر گئے وہ مجھے آج تک نہیں بھولے۔میری نظر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات آج بھی اسی طرح تازہ ہے جس طرح اُس دن تھی جس دن آپ کا وصال ہوا۔پھر میری نظر میں حضرت خلیفہ اول کی وفات آج بھی اُسی طرح تازہ ہے جس طرح اُس دن تھی جب آپ کا انتقال ہوا۔کیونکہ میرے نزدیک وہ شخص جو اپنے کسی احسان کرنے والے کو بھول جاتا ہے وہ پرلے درجہ کا محسن کش ہے۔صبر کے یہ معنے نہیں کہ انسان اپنے محسنوں کو بھول جائے۔بلکہ صبر کے یہ معنی ہیں کہ کوئی صدمہ انسان کو اس کے اصل فرائض سے غافل نہ کر دے اور اس کی ہمت اور طاقت کو پست نہ کر دے۔ورنہ کسی صدمہ کا بھلا دینے کا نام صبر نہیں بلکہ احسان فراموشی ہے۔میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا اندوہناک سانحہ نہیں دیکھا مگر مجھے تو وہ دن بھی آج تک نہیں بھولا۔آج تک آپ کی