انوارالعلوم (جلد 26) — Page 383
انوار العلوم جلد 26 383 موجود ہیں۔لطیف صاحب نے ان کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ تبلیغ میں یہ بہت اچھے ہیں۔مگر جرمن لوگوں کی درخواست آئی ہے کہ ہمیں پاکستانی مبلغ بھیجیں۔چنانچہ لطیف صاحب کی مدد کے لئے ہم ایک نیا مبلغ بھجوا رہے ہیں۔سیکنڈے نیویا جو روس سے ملتا ہوا یورپین علاقہ ہے جرمنی ، ہالینڈ اور تحکیم کے شمال مشرق میں واقع ہے اور انگلستان کے شمال مشرق میں اس علاقہ کی ایک حکومت فن لینڈ کہلاتی ہے کئی لاکھ ترک اس علاقہ میں سینکڑوں سال سے بس رہا ہے۔یہ لوگ گو احمدی نہیں ہوئے مگر انہوں نے احمدی مبلغ کو بلا کر تقریریں کرائی ہیں۔دوسری حکومت اس علاقہ کی سویڈن کہلاتی ہے چونکہ یہ لوگ مالدار ہیں اور متعصب عیسائی ہیں اس لئے وہاں کی رہائش بڑی مہنگی ہے۔ہمارا ارادہ تھا کہ سویڈن میں مسجد بنائیں لیکن ایک جرمن تو مسلم نے لکھا ہے کہ میں نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک جگہ تجویز کی ہے بہتر ہوگا کہ وہاں مسجد بنائی جائے۔اس کے متعلق ہم نے وہاں کے مبلغ کمال یوسف صاحب کو جو میرے سالے کے لڑکے ہیں ہدایت کر دی ہے کہ وہ اسے دیکھ کر رپورٹ کریں۔اگر وہ منا سب جگہ ہو تو اسے خرید لیا جائے اور مغربی افریقہ کی جماعت کو مسجد کی تعمیر کیلئے تحریک کی جائے۔چونکہ ہمارے ملک کی ایکسچینج کی حالت اچھی نہیں اور حکومت پونڈ باہر نہیں جانے دیتی اس لئے مسجدوں کی تعمیر میں دقت پیش آسکتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ فضل کیا ہے کہ اس نے ہمیں مشرقی اور مغربی افریقہ میں ایسی جماعتیں دے دی ہیں جن میں سے بعض بہت مالدار ہیں۔مغربی افریقہ میں بعض چیف ایسے ہیں جن کی زمینوں میں سے ہیرے کی کانیں نکلی ہیں اور مشرقی افریقہ میں احمدیت کی مدد کی تحریک اللہ تعالیٰ نے بعض سکھوں کے دلوں میں پیدا کر دی ہے۔چنانچہ یوگنڈا کے علاقہ میں ایک بڑا شہر جنجہ ہے وہاں ایک مسجد کی تعمیر کے لئے ایک سکھ تاجر نے بہت سا سامان دیا ہے اور ساتھ ہی اس نے وعدہ کیا ہے کہ یوگنڈا میں جتنی مساجد بھی بنائی جائیں گی میں ان کے لئے لوہا، لکڑی اور سیمنٹ مہیا کرنے میں پوری مدددوں گا۔یہ نوجوان سکھ گل قوم میں سے ہے جو قادیان کے گرد بستی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ وہ بیرونی ملکوں میں مساجد کی تعمیر کے