انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 382

انوار العلوم جلد 26 382 کر رہا ہے۔امید ہے کہ جب وہ تعلیم سے فارغ ہو گا تو اپنے ملک میں تبلیغ کا بہت بڑا ہوگا ذریعہ ثابت ہوگا۔انگلستان میں گو سب سے پہلے تبلیغ شروع ہوئی تھی مگر وہاں بہت کم لوگ احمدی ہوئے ہیں۔اب موجوده امام مسجد لندن مولود احمد خان صاحب کے ذریعہ سے تعلیم یافتہ طبقہ میں تبلیغ شروع ہوگئی ہے اور چند بیعتیں بھی آئی ہیں۔اب تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ ایک نوجوان جو پچھلے سفر میں مجھے بھی ملا تھا ایک پاکستانی احمدی مرتد نے اسے ورغلانے کی کوشش کی۔اس نے مرکز انگلستان میں خط لکھا کہ فلاں پاکستانی نوجوان نے مجھے ورغلانے کی کوشش کی تھی۔اگر میں نے سوچ سمجھ کر احمدیت قبول نہ کی ہوتی تو یہ شخص مجھے ورغلانے میں ضرور کامیاب ہو جاتا۔لیکن میں اس کی تمام باتوں کو لغو سمجھتا ہوں۔اب ایک نیا مبلغ بھی انگلستان بھیج دیا گیا ہے جو امید ہے پہنچ چکا ہو گا۔میرا منشاء ہے کہ انگلستان میں دو اور مقامات پر جن کے جنوباً اور شمالاً ہر جگہ اسلام کا اثر ہو مساجد تعمیر کی جائیں۔میں نے اس کے متعلق مولود احمد صاحب کو ہدایت بھجوا دی ہے مگر مولود صاحب جہاں تبلیغ میں نہایت ہی اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں وہاں مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں ان کی ذہانت بالکل ناکام رہی ہے۔چھوٹے چھوٹے کاموں پر بھی وہ بہت دیر لگا دیتے ہیں۔ان کے مقابلہ میں جرمنی کے مبلغ چودھری عبد اللطیف صاحب نہایت کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے نہ صرف ہمبرگ میں مسجد بنائی ہے بلکہ فرینکفورٹ میں بھی جو جرمنی کا بڑا شہر ہے مسجد کے لئے زمین خرید لی ہے اور ان کا جو تازہ خط آیا ہے اس میں لکھا ہے کہ میں یہاں سے مسجد بنوانے کے لئے فرینکفورٹ جا رہا ہوں۔سوئٹزر لینڈ میں شیخ ناصر احمد صاحب کام کر رہے ہیں انتظامی لحاظ سے وہ بھی مولود صاحب کی طرح بہت کمزور ہیں لیکن تبلیغی لحاظ سے بڑے اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ان کے ذریعہ سے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ملتے ہوئے جزیرہ اور آسٹرین علاقہ میں اسلام کی تبلیغ ہو رہی ہے اور کئی لوگ اسلامی تعلیم سے دلچسپی لے رہے ہیں۔مسٹر کنزے نے جو جرمنی کے سب سے پہلے مسلمان ہیں لکھا ہے کہ وہ اس سال جلسہ سالانہ پر آنا چاہتے ہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ یہاں پہنچ گئے ہیں اور جلسہ میں