انوارالعلوم (جلد 26) — Page 384
انوار العلوم جلد 26 384 سلسلہ میں غیر مسلموں کے دلوں میں بھی امداد کی تحریک کر رہا ہے۔گو وہ جماعتیں امیر ہیں لیکن اتنی امیر نہیں کہ سارے علاقوں میں مساجد تعمیر کر سکیں۔ایک نو جوان مشرقی افریقہ سے آیا تھا۔اس نے کہا کہ اس سکھ نوجوان نے اتنی مدد کی ہے کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ مسجد کا افتتاح اس سے کروایا جائے۔میں نے اس کے متعلق شیخ مبارک احمد صاحب سے جو وہاں کے رئیس التبلیغ ہیں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہاں غیر مسلموں کے متعلق اتنا تعصب ہے کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہماری تبلیغ کے رستہ میں بڑی مشکلات پیش آجائیں گی۔چنانچہ سوچ کر ہم نے یہ تجویز نکالی کہ مسجد کا افتتاح تو احمدی مبلغ کرے مگر افتتاحی تقریب کا صدر اس سکھ کو بنا دیا جائے تا کہ وہ اسلام کے اور زیادہ قریب آ جائے اور اس کا دل بھی خوش ہو جائے کہ اس کی قدر کی گئی ہے۔اس جلسہ کے موقع پر ماریشس کی جماعت کا ایک نمائندہ بھی آیا ہوا ہے۔جس نے ابھی میری اجازت سے اپنی جماعت کی طرف سے ایڈریس پڑھا ہے۔یہ جماعت میری خلافت کے ابتدا میں قائم ہوئی تھی۔اب وہاں کئی فتنے پیدا ہورہے ہیں اور ماریشس کے احمدی ان کا مقابلہ کر رہے ہیں مگر چونکہ حکومت بھی مخالف ہے اس لئے کچھ دقتیں پیدا ہو رہی ہیں کہ ماریشس سے پہلے سیلون میں جماعت قائم ہوئی تھی اور سیلون کے مبلغ یعنی حافظ صوفی غلام محمد صاحب کو ہی میں نے ماریشس بھجوایا تھا۔سیلون میں بھی بعض فتنے پیدا ہورہے ہیں اور تامل بولنے والے ہندوستانی بڑی مخالفت کر رہے ہیں جو وہاں کثرت سے ہیں۔گوملک کے اصلی باشندوں کی زبان سنہا لیز ہے۔مجھے ایک خواب میں بتایا گیا تھا کہ سنہا لیز زبان کی طرف توجہ کرو۔چنانچہ اس زبان میں ہمارے مبلغ نے وہاں لٹریچر شائع کیا۔پہلے یہ خیال کیا گیا تھا کہ زبان کا نام سنگھالی ہے مگر بعد میں پتا لگا کہ اس کا نام جیسا کہ خواب میں بتایا گیا تھا سنگھالی نہیں سنہا لیز ہے۔وہاں کے اصلی باشندے بھی یہی زبان بولتے ہیں۔اور چونکہ ہماری پالیسی یہ ہے کہ اصل باشندوں کی تائید کی جائے اس بعد میں وہاں کے گورنر کی چٹھی دفتر تبشیر میں آئی جس میں خود اس نے اپنی تجاویز بتائی ہیں جن سے ان کی مشکلات بھی دور ہو جائیں اور قانون کے اعتراضات بھی نہ رہیں۔