انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 243

انوار العلوم جلد 26 243 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک ہونی چاہئے اور حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے قرآن کریم سے بحث ہونی چاہئے۔آخر بہت دنوں کی بحث کے بعد حضرت خلیفہ اول نے اتنامان لیا اچھا بخاری بھی پیش کی جاسکتی ہے۔مولوی محمد حسین صاحب میں مبالغہ کرنے کی عادت تھی وہ بڑے فخر سے اپنے آدمیوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ میں نے نورالدین کو یوں رگیدا اور اس طرح پچھاڑا اور آخر اُس سے منوالیا کہ حدیث بھی پیش کی جاسکتی ہے۔اتنے میں مولوی نظام الدین صاحب وہاں پہنچ گئے۔انہوں نے کہا مولوی صاحب ! ان باتوں کو چھوڑئیے میں نے مرزا صاحب کو قابو کر لیا ہے اور اُن سے یہ اقرار لے لیا ہے کہ اگر میں قرآن کریم کی دس آیات ایسی پیش کر دوں جن سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہو تو وہ وفات مسیح کے عقیدہ سے تو بہ کر لیں گے۔اس لئے آپ جلدی سے مجھے دس آیات لکھ دیں پھر میں مرزا صاحب کو شاہی مسجد میں لا کر اُن سے تو بہ کراؤں گا۔مولوی محمد حسین صاحب جو بڑے فخر سے یہ بات بیان کر رہے تھے کہ میں نے مولوی نورالدین کو یوں رگیدا اور یوں پچھاڑا اور آخر اسے حدیث کی طرف لے آیا یہ سنتے ہی سخت برہم ہو گئے اور کہنے لگے تجھے کس جاہل نے کہا تھا کہ اس مسئلہ میں دخل دیتا۔میں اتنے دنوں کی بحث کے بعد مولوی نورالدین کو بڑی مشکل سے بخاری کی طرف لایا تھا۔اب تو اس بحث کو پھر قرآن کریم کی طرف لے گیا ہے۔وہ جوش میں یہ فقرہ کہنے لگے مگر جب میاں نظام الدین صاحب نے یہ بات سنی تو ان پر سکتہ کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔وہ تھوڑی دیر بالکل خاموش کھڑے رہے اور پھر کہنے لگے اچھا مولوی صاحب! پھر جدھر قرآن ہے اُدھر ہی میں ہوں۔اور یہ کہہ کر وہ واپس آگئے۔اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔جس طرح میاں نظام الدین صاحب نے یہ کہا تھا کہ جدھر قرآن ہے اُدھر ہی میں ہوں۔اس طرح تمہیں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے یہ موقع دیا ہے کہ تم کہہ سکو کہ جدھر قرآن ہے اُدھر ہی ہم ہیں۔احادیث بے شک کچی ہیں لیکن قرآن کریم کے مقابلہ میں ان کا مرتبہ کم ہے۔قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی سچائی پر ہم قسم بھی کھا سکتے ہیں لیکن کسی حدیث کے متعلق ہم قسم کھا کر نہیں کہہ سکتے کہ وہ ضرور کی ہے۔