انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 242

انوار العلوم جلد 26 242 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زن ہوں اور اوپر سے گرم پانی پی لیتا ہوں اس طرح چائے کی عادت پوری ہو جاتی ہے۔بہر حال میاں نظام الدین صاحب جب حج سے واپس آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ مولوی محمد حسین صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی جھگڑا ہو گیا ہے۔وہ فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ کیا آپ کا مولوی محمد حسین صاحب سے کوئی جھگڑا ہو گیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کوئی دنیوی جھگڑا تو نہیں ہاں انہوں نے ایک سچی بات کا انکار کر دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور ہم لکھتے ہیں کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اس بات پر آپس میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے اگر قرآن کریم سے ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں تو کیا پھر بھی آپ یہی عقیدہ رکھیں گے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہم قرآن کریم کے خلاف کوئی بات کس طرح کہہ سکتے ہیں۔اگر قرآن کریم سے یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو ہم اپنے عقیدہ کو چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے میں پہلے ہی کہتا تھا کہ مرزا صاحب قرآن کریم کے خلاف کوئی بات نہیں کہہ سکتے ضرور کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے۔اچھا! اگر میں پچاس آیات ایسی لے آؤں جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات ثابت ہوتی ہو تو کیا آپ مان لیں گے؟ آپ نے فرمایا میاں نظام الدین ! قرآن کریم تو خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کا ہر لفظ قابل عمل ہے پچاس آیات کا کیا سوال ہے اگر آپ ایک آیت بھی ایسی لے آئیں تو میں مان لوں گا۔اس پر وہ کہنے لگے اچھا! میں چھپیں آیات تو ضرور لے آؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر فرمایا کہ میاں صاحب! میں تو ایک آیت بھی مان لوں گا کیونکہ قرآن کریم کی ایک آیت کا انکار کرنے والا بھی کافر ہے۔یہ کہہ کر وہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے پاس گئے۔وہ اُن دنوں لاہور میں چینیوں والی مسجد میں رہتے تھے وہاں چالیس پچاس اور آدمی بیٹھے تھے۔اُن دنوں حضرت خلیفہ المسیح الاول ایک ماہ کی رخصت پر جموں سے لاہور تشریف لائے ہوئے تھے اور وہاں اُن کی مولوی محمد حسین بٹالوی سے بحث جاری تھی۔مولوی محمد حسین صاحب کہتے تھے کہ وفات مسیح کے مسئلہ پر حدیث سے بحث