انوارالعلوم (جلد 26) — Page 451
انوار العلوم جلد 26 451 سیر روحانی (12) متعلق قریب زمانہ میں امریکہ اور یورپ کے ممالک میں بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن قرآن کریم نے اس کا رڈ فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ یہ خیال کرنا کہ اس دنیا کا کوئی خالق نہیں بالکل غلط بات ہے۔چنانچہ فرما یا برَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَوُتِ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فَطُورِ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيون 21 یعنی بہت برکت والا ہے وہ خدا جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور جو ہر چیز پر قادر ہے۔اُس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تا کہ دیکھے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے۔اُس نے ساتوں آسمان بھی پیدا کئے ہیں اور اُن میں موافقت اور مطابقت بھی پیدا کی ہے۔اے مخاطب ! تو کوئی اختلاف اللہ تعالیٰ کی پیدائش میں نہیں دیکھے گا۔پس تو اپنی آنکھ کو لو ٹا ، کیا تجھے کوئی رخنہ یا کمی نظر آتی ہے؟ پھر دوبارہ اپنی نظر کو لو ٹا کر دیکھ تیری نظر تھکی ہوئی اور ماندہ ہو کر کوٹے گی اور خدا تعالیٰ کی پیدائش میں تجھے نقص نظر نہیں آئے گا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات اتفاقاً پیدا ہوگئی ہے اور اتفاقی طور پر مادہ کے ملنے سے یہ سب کچھ بن گیا ہے۔اور پھر وہ سائنس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے۔دنیا آپ ہی آپ پیدا ہوگئی ہے اس کی گل چلانے والا کوئی نہیں۔اِن کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں دیا ہے کہ اتفاقی طور پر جڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اور نظام نہیں ہوگا بلکہ بے جوڑ پن ہوتا ہے۔مختلف رنگوں سے تصویر بنتی ہے لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پر پھینک دیں تو اُس سے تصویر بن جائے گی ؟ اینٹوں سے مکان بنتا ہے لیکن کیا اینٹیں ایک دوسری پر پھینک دی جائیں تو مکان بن جائے گا ؟ بفرضِ محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بعض کام اتفاقاً ہو جاتے ہیں تو بھی نظامِ عالم کو دیکھ کر کوئی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی آپ ہو گیا ہے۔مانا کہ خود بخود مادہ پیدا ہو گیا اور مانا کہ مادہ سے خود بخو دزمین پیدا ہوگئی۔مانا کہ انسان بھی خود بخود پیدا ہو گیا۔