انوارالعلوم (جلد 26) — Page 452
انوار العلوم جلد 26 452 سیر روحانی (12) لیکن انسان کی پیدائش پر غور تو کرو کہ کیا ایسی کامل پیدائش خود بخود ہو سکتی ہے؟ دنیا میں عام طور پر کسی صنعت کی خوبی سے اس کے صناع کا پتا لگتا ہے۔ایک عمدہ تصویر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کسی اچھے مصور نے یہ تصویر بنائی ہے۔ایک عمدہ تحریر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریر کسی اچھے کاتب نے لکھی ہے۔اور جس قدر ربط بڑھتا جائے بنانے والے کی خوبی ظاہر ہوتی ہے۔پھر کس طرح تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایسی منظم دنیا خود بخود پیدا ہوگئی ہے۔قرآن کریم میں زرتشتی مذہب قرآن کریم میں زرتشتی مذہب کے اصولوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔زرتشتیوں کے نزدیک کے اصول کا ذکر اور اُن کا رڈ ایک نُور کا خدا ہوتا ہے اور ایک تاریکی کا خدا ہوتا ہے اور ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔تاریکی کا خدا نور پیدا نہیں کر سکتا اور ٹور کا خدا تاریکی پیدا نہیں کر سکتا۔اگر ٹور کا خدا تاریکی پیدا کرے اور تاریکی کا خدا نور پیدا کر دے تو اس کا مطلب ہے کہ دنیا تباہ ہو جائے۔ان کے مقابلہ میں عیسائی تین خداؤں کو مانتے ہیں اور ہندو ہزاروں دیوتاؤں کو مانتے ہیں۔قرآن کریم نے زرتشتی مذہب کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور اس کے غلط اصولوں کی تردید کی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَتِ وَالتَّوْرَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ 72 یعنی سب تعریفوں کا مستحق خدا تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے اور پھر اُس نے اندھیروں اور نور کو پیدا کیا ہے لیکن اس کے باوجود کافر لوگ اُس کے ساتھ شریک بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نُور کا خدا اور ہے اور تاریکی کا خدا اور ہے۔چنانچہ زرتشتیوں کا بھی یہی خیال تھا کہ اہر من ظلمت کا خدا ہے اور یز دان نور کا خدا ہے۔73 خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ عقیدہ اس لئے غلط ہے کہ دنیا میں بعض چیز میں نور کے ماتحت پائی جاتی ہیں اور بعض چیزیں ظلمت کے ماتحت پائی جاتی ہیں۔نور اور ظلمت علیحدہ علیحدہ چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی دو کڑیاں ہیں اور دونوں چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ خدا ایک ہے۔اگر ظلمت یہ ثابت کرتی کہ خدا تعالیٰ میں کوئی نقص ہے تو بے شک ایک اور خدا ایزدان