انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 450

انوار العلوم جلد 26 450 سیر روحانی (12) کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ اس قسم کی کشتیاں دریائے بیاس میں بھی چلا کرتی تھیں مگر اُن میں یہ نقص ہوتا تھا کہ چھوٹی جگہوں میں آکر وہ پھنس جاتی تھیں۔اسی طرح اس کی ایک اور مثال سورۃ یوسف قیدیوں کیلئے خوراک کا انتظام سے بھی ملتی ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام جب قید میں تھے تو آپ کے دو ساتھی آپ سے خوابوں کی تعبیر دریافت کرنے کے لئے آئے۔آپ نے ان کو وعظ کرتے ہوئے فرمایا لَا یأْتِيْكُمَا طَعَامُ تُرْزَقَنِةٍ إِلَّا نَبَّاتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكُمَا - 70 یعنی اس وقت کا کھانا ابھی نہیں آئے گا کہ میں تمہیں اس کے آنے سے پہلے اس خواب کی حقیقت بتا دوں گا۔اس سے ظاہر ہے کہ فراعنہ مصر کے زمانہ میں خصوصیت سے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قیدیوں کو قید خانہ میں کھانا دیا جاتا تھا۔جو لوگ پھانسی کے مستحق ہوتے تھے انہیں بھی کھانا دیا جاتا تھا۔اسلامی خلفاء کے زمانہ میں بھی یہی طریق رائج رہا۔لیکن افسوس که درمیانی عرصہ میں مسلمان اسے بھول گئے اور اسلامی ممالک میں یہ رواج ہو گیا کہ قیدیوں کو جیل خانہ سے باہر بھیک مانگنے کے لئے بھیج دیا جاتا تھا۔مجھے ایک احمدی افسر نے بتایا کہ وہ ایسے ہی ملک میں قید ہو گئے تھے کہ ظہر کے بعد ہمیں قید خانہ سے باہر نکال دیا جاتا تھا اور کہا جاتا کہ بھیک مانگ لاؤ۔جب ہم بھیک مانگ لاتے تو اچھا اچھا کھانا جیلر نکال لیتا اور خراب کھانا ہمیں دے دیتا۔بہر حال تمدن کے لحاظ سے ضروری ہے کہ قیدیوں کو بھی کھانا دیا جائے بلکہ اب تو لوگوں کی یہ رائے ہوگئی ہے کہ اگر زمیندار چاہیں کہ قیدی اُن کے کھیت میں کام کریں تو انہیں چھوڑ دینا چاہئے۔قید خانہ میں بند رہنے کی وجہ سے رشتہ داروں کی محبت کم ہو جاتی ہے اور اخلاق کمزور ہو جاتے ہیں۔لوگ اسلام پر غلامی کا اعتراض کرتے ہیں لیکن اسلام کا یہ قانون ہے کہ جنگی قیدی کوکسی کے سپرد کر دو کہ وہ اُس سے کام لے اور باہر رہنے کی وجہ سے اُس قیدی کے رشتہ دار سے ملتے رہیں اور اُسے یہ محسوس نہ ہو کہ وہ دنیا سے بالکل الگ ہو گیا ہے۔قرآن کریم میں دہریت کا رڈ اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں دہریت کا رڈ بھی موجود ہے۔دہریت کے