انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page v

بلند کرتے چلے جائیں۔جلسہ سالانہ 1960ء کے اختتامی اجلاس منعقدہ 28 /دسمبر کے تحریری پیغام میں آپ نے فرمایا: 66 ”ہماری جماعت کے افراد کو بھی یہ عہد کر لینا چاہئے کہ خواہ ہم پر کتنی بڑی مشکلات آئیں اور خواہ ہمیں مالی اور جانی لحاظ سے کتنی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں پھر بھی جو کام ہمارے آسمانی آقا نے ہمارے سپرد کیا ہے ہم اس کی بجا آوری میں کسی قسم کی کو تا ہی نہیں کریں گے اور خدائی امانت میں کوئی خیانت نہیں کریں گے۔ہمارے سپرد اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا ہے کہ ہم اس کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کریں۔۔۔۔۔۔اس وقت اسلام کی کشتی بھنور میں ہے اور اس کو سلامتی کے ساتھ کنارے تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔اگر ہم اس کی اہمیت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں تو ہزاروں نوجوان خدمت دین کے لئے آگے آ سکتے ہیں۔“ دین حق کی سربلندی کی کو حضرت مصلح موعود کے سینے میں جل رہی تھی۔آپ نے جلسہ سالانہ 1959 ء جو کہ جنوری 1960ء میں منعقد ہوا اُس میں آئندہ خلفاء کو ان الفاظ میں وصیت فرمائی: و آئندہ خلفاء کو بھی وصیت کرتا ہوں کہ جب تک دنیا کے چپہ چپہ میں اسلام نہ پھیل جائے اور دنیا کے تمام لوگ اسلام قبول نہ کر لیں اُس وقت تک اسلام کی تبلیغ میں وہ کبھی کوتاہی سے کام نہ لیں۔خصوصا اپنی اولا دکو میری یہ وصیت ہے کہ وہ قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھیں اور اپنی اولاد در اولادکو نصیحت کرتے چلے جائیں کہ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو کبھی نہیں چھوڑ نا اور مرتے دم تک اسلام کے جھنڈے کو ,, بلند رکھنا ہے۔“ حضرت مصلح موعود نے تاریخ ساز کارنامے سرانجام دیئے ہیں اور علومِ ظاہری و باطنی سے پُر ہونے کے نظارے اپنی تحریر و تقریر سے سب پر آشکار کئے۔خدمت دین کے لئے آپ کی کوششیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔تاریخ احمدیت کا آپ روشن باب تھے۔آپ کے وجود کے بغیر تاریخ احمدیت مکمل نہیں ہوتی۔آپ نے خود اس بات کا اظہار جلسہ سالانہ 1961ء کی اختتامی تقریر میں فرمایا تھا جسے مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنایا۔آپ نے تحریر فرمایا: ”میرا نام دنیا میں ہمیشہ قائم رہے گا اور گو میں مر جاؤں گا مگر میرا نام کبھی