انوارالعلوم (جلد 26) — Page iv
انوار العلوم کی یہ جلد حضرت مصلح موعود کی زندگی کے تقریباً آخری دس سالوں کا احاطہ کر رہی ہے۔اس دور میں کئی اندرونی اور بیرونی فتنوں نے بھی سر اٹھایا۔حضرت مصلح موعود نے اپنی ولولہ انگیز قیادت اور آسمانی تائیدات کے ذریعہ ان فتنوں کو ناکام و نامراد کر دیا اور احباب جماعت کو پہلے سے بڑھ کر متحد اور خلافت کا شیدائی بنادیا۔جلسہ سالانہ 1956ء کی افتتاحی تقریر جو اس کتاب کی زینت ہے اس میں بڑے جلالی الفاظ میں آپ نے بیان فرمایا ,, " تم خدا کا لگایا ہوا پودا ہو، تم بڑھتے چلے جاؤ گے اور پھیلتے چلے جاؤ گے اور جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے تمہاری جڑیں زمین میں مضبوط ہوتی جائیں گی اور تمہاری شاخیں آسمان میں پھیلتی چلی جائیں گی یہاں تک کہ تم میں لگنے والے پھلوں کو جبریل آسمان پر بیٹھا ہوا کھائے گا اور اس کے ماتحت فرشتے بھی آسمان پر سے کھائیں گے اور خدا تعالیٰ عرش پر تعریف کرے گا کہ میرا لگایا ہوا پودا کتنا شاندار نکلا ہے۔ادھر زمین میں اس کی جڑیں پھیل گئی ہیں اور اُدھر آسمان میں میرے عرش کے پاس اس کی شاخیں ہل رہی ہیں“ انوار العلوم جلد نمبر 26 میں 1956ء تا 1965ء کے عرصہ کی جلسہ ہائے سالانہ اجتماعات انصار الله ، خدام الاحمدیہ ولجنہ اماءاللہ کے لئے خطابات و پیغامات و دیگر نقار بر شامل ہیں۔سیر روحانی کے نام سے جاری سلسلہ تقاریر کی گیارہویں اور بارہویں کڑی بھی اس جلد کی زینت ہے۔اسی طرح 1957ء سے 1965 ء تک حضرت مصلح موعود کے احباب جماعت مختلف اداروں، تنظیموں اور مساجد کے افتتاح کے موقع پر دیئے گئے تاریخی پیغامات جن کی تعداد 64 ہے اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔حضرت مصلح موعود نے اپنے ولولہ انگیز خطابات اور تحریروں کے ذریعہ احباب جماعت کے دلوں میں خدمت دین کے لئے قربانی کی روح پھونک دی اور آپ کی تمنا اور تڑپ تھی کہ لوگ خدمت دین پر کمر بستہ رہیں اور جو علم ان کے ہاتھوں میں تھمایا گیا ہے اس کو بلند سے