انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xl of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page xl

انوار العلوم جلد 26 29 تعارف کتب رکھو خدا تعالیٰ نے جو شرف تمہیں عطا فرمایا ہے بعد میں آنے والوں کو وہ میسر نہیں آسکتا۔جیسے اسلام میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں مگر جو مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چھوٹے سے چھوٹے صحابی کو بھی ملا وہ ان بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوا۔ان بادشاہوں اور نو جوانوں کو بیشک دنیوی دولت ملی مگر اصل چیز تو صحابہ ہی کے حصہ میں آئی۔باقی لوگوں کو تو صرف چھلکا ہی ملا" (20) ہمارا جلسہ سالانہ شعائر اللہ میں سے ہے اور صداقت حضرت مسیح موعود کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔حضرت مصلح موعود کا یہ املاء کردہ روح پرور پیغام جلسہ سالانہ 1961ء کے پہلے روز 26 دسمبر کو حضور کی ہی موجودگی میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے پُر شوکت آواز اور پُر درد لہجے میں پڑھ کر سنایا۔حضور نے اس پیغام میں جلسہ سالانہ کی اہمیت اور افادیت پر ان الفاظ میں توجہ دلائی۔"ہمارا یہ جلسہ جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت رکھی گئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے نشانوں میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے اس لئے یہ بھی شعائر اللہ میں سے ہے۔اور ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس کی عظمت کو پوری طرح ملحوظ رکھے اور اس کی برکات سے صحیح رنگ میں مستفیض ہونے کی کوشش کرے " حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور کے جلسہ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اُس میں حاضری صرف 75 تھی اور آج نصف لاکھ سے زیادہ مخلصین اس جلسہ میں شریک ہوکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔حضور نے جماعت کی دیگر ترقیات وفتوحات کا ذکر کر کے فرمایا: " ہم میں سے کوئی شخص اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ کے مسیح کے ہاتھوں زمین میں ایک بیج بویا گیا اور وہ بیج ہرقسم کی مخالفانہ ہواؤں کے باوجود بڑھا اور پھولا