انوارالعلوم (جلد 26) — Page xli
انوار العلوم جلد 26 30 تعارف کتب اور پھلا یہاں تک کہ آج اُسی پیج سے ایک ایسا شاندار درخت پیدا ہو چکا ہے جس کی شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں اور جس پر ہزار ہا آسمانی پرندوں نے بسیرا کیا ہوا ہے۔مگر ابھی ضرورت ہے کہ ہم اپنے کام کو اور بھی وسیع کریں اور خدا تعالیٰ کے جلال اور اس کے جمال کے اظہار کیلئے اس مقدس مشن کی تکمیل میں اپنی عمریں صرف کر دیں جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دنیا میں مبعوث ہوئے تھے" (21) اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش کرو جب اسلام کا جھنڈ ا ساری دنیا میں اپنی پوری شان سے لہرانے لگے حضرت مصلح موعود کا یہ خطاب بھی املاء کردہ تھا جو جلسہ سالانہ 1961ء کے تیسرے روز 28 دسمبر کو اختتامی اجلاس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے حضور کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا۔پُر معارف اور ایمان افروز یہ خطاب انتہائی ذوق وشوق اور ولولہ عشق کے عالم میں سنا گیا۔حضور نے خطاب کے آغاز میں فرمایا کہ 1914ء میں جب خدا تعالیٰ نے مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا تو غیر مبائعین بھی علی الاعلان یہ کہہ رہے تھے کہ 95 فیصد جماعت ان کے پاس ہے اور صرف 5 فیصد جماعت نے خلافت کو تسلیم کیا ہے۔انجمن کا خزانہ خالی تھا۔تب خاکسار نے " کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے" کے عنوان سے ایک ٹریکٹ شائع کر کے جماعتوں میں بھجوایا۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جہاں جہاں یہ ٹریکٹ پہنچا متر ڈر جماعتوں کے دل صاف ہو گئے اور سنبھل گئے۔اور انہوں نے تاروں اور خطوط کے ذریعہ میری بیعت کر لی۔اور اب بفضلہ تعالیٰ 95 فیصد ا حباب میرے ساتھ ہیں اور 5 فیصد ان کے ساتھ۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد بھی غیر مبائعین کے سرکردہ احباب جو صدر انجمن احمدیہ پر قابض تھے نے فیصلہ کیا کہ سلسلہ کا جو روپیہ علماء تیار کرنے پر خرچ ہو رہا ہے یہ بے فائدہ ہے مدرسہ احمدیہ کو بند کر دینا چاہئے اور صرف ہائی اسکول میں دینیات کی