انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxix of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxxix

انوار العلوم جلد 26 28 تعارف کتب کریں گے اور خدائی امانت میں کوئی خیانت نہیں کریں گے۔ہمارے سپرد اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا ہے کہ ہم اس کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کریں۔اور یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اُس سے عاجزانہ طور پر عرض کریں کہ اے ہمارے آقا ! دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ موجود تھے ، بڑے بڑے سیاستدان موجود تھے ، بڑے بڑے مدبر موجود تھے ، بڑے بڑے نواب اور رؤساء موجود تھے ، بڑے بڑے فلاسفر اور بڑے بڑے دانشور اور علماء موجود تھے مگر تو نے ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم غریبوں اور بے کسوں کو چنا اور اپنی بیش بہا امانت ہمارے سپرد کر دی۔اے ہمارے آقا ! ہم تیرے اس احسان کو کبھی بھلا نہیں سکتے اور تیری اس امانت میں کبھی خیانت نہیں کر سکتے۔ہم تیری بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے شہروں اور ویرانوں میں پھریں گے۔ہم تیرے نام کو بلند کرنے کے لئے دنیا کے کونے کونے میں جائیں گے اور ہر دُکھ اور مصیبت کے وقت میں سینہ سپر ہو کر کھڑے ہو جائیں گے۔اگر ہم یہ عزم کرلیں اور دین کے لئے متواتر قربانی کرتے چلے جائیں تو یقینا اللہ تعالی ہمیں ضائع نہیں کرے گا اور اسلام اور احمدیت کو دنیا میں غالب کر دے گا" حضور نے اس خطاب میں اسلام کی حالت زار کا ذکر کے احباب کے ایمانوں کو یوں اُبھارا: اس وقت اسلام کی کشتی بھنور میں ہے اور اس کو سلامتی کے ساتھ کنارے تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔اگر ہم اس کی اہمیت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں تو ہزاروں نوجوان خدمت دین کے لئے آگے آسکتے ہیں۔ہمیں اس وقت ہر قسم کے واقفین کی ضرورت ہے۔ہمیں گریجوایٹوں کی بھی ضرورت ہے اور کم تعلیم والوں کی بھی ضرورت ہے تا کہ ہم ہر طبقہ تک اسلام کی آواز پہنچا سکیں۔اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھ لو گے تو یقیناً اس کشتی کو سلامتی کے ساتھ نکال کر لے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ابدی حیات عطا فرمائے گا۔تمہارے بعد بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوں گے، بڑے بڑے علماء پیدا ہوں گے، بڑے بڑے صوفیا پیدا ہوں گے، بڑے بڑے بادشاہ آئیں گے مگر یاد