انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 15

انوار العلوم جلد 26 15 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء احمدی دوست خصوصاً پنسل اور کا غذ لیتے آئیں اور نوٹ کر لیں تا کہ جب وہ گھر جائیں تو ان کو چھپنے کا انتظار نہ کرنا پڑے بلکہ اپنے نوٹوں کی مدد سے اسے یاد کر لیں اور جب امتحان ہو تو اس کا امتحان دیں۔جب وہ امتحان دیں گے تو جو ان میں سے فرسٹ نکلے گا اُس کو ہم ایک کتاب تذکرہ کی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں کی کتاب ہے اور ایک تفسیر کی جلد انعام دیں گے۔اور جو سیکنڈ نکلے گا اُس کو ایک تفسیر کی جلد اور ایک سیر روحانی کی جلد دیں گے۔اسی طرح جو تھرڈ نکلے گا اُس کو یا کوئی تفسیر کی جلد یا صرف سیر روحانی کی جلد دی جائے گی۔اس طرح ہر سال الگ الگ انعام مقرر ہوتے چلے جائیں گے۔اس سال میں نے یہ اعلان کر دیا ہے سوجو دوست لکھنا چاہتے ہیں وہ کل اپنے ساتھ پنسل اور کاغذ لے آئیں اور مختصر نوٹ لکھ لیں تا کہ ان کو یاد کر سکیں اور جب جنوری یا فروری میں امتحان لیا جائے تو اس وقت وہ صحیح طور پر جواب دے سکیں اور ان کو انتظار نہ کرنا پڑے کہ تقریر چھپے گی تو ہم امتحان دیں گے اور مضمون ان کے ذہن نشین ہوتا چلا جائے گا۔جب پہلے زمانہ میں قادیان میں میں نے یہ کہا تھا تو دوست لکھا کرتے تھے۔رات کے وقت جلسہ گاہ میں عجیب نظارہ ہوتا تھا۔چاروں طرف دوست اپنے ساتھیوں کو موم بتیاں پکڑا دیتے تھے اور ان کی روشنی میں بیٹھے ہوئے نوٹ لکھتے تھے۔اب تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بجلی کی روشنی بھی آگئی ہے۔اول تو میں بیمار ہوں لمبی تقریر نہیں کر سکتا لیکن اگر رات بھی ہوگئی تو بجلی کی روشنی میں دوست نوٹ لکھ سکتے ہیں۔پھر فروری، مارچ میں جب امتحان ہوگا تو اُس وقت ان کو اس کا جواب دینا ہوگا۔قادیان میں جلسہ سالانہ کے بعد جب لوگ جاتے تھے تو مجھے کئی دوستوں نے سنایا کہ ہم گھروں میں جا کر اپنی جماعتوں کو وہ تقریریں سناتے تھے تو اس طرح جماعتوں کو بڑی جلدی تقریریں پہنچ جاتی تھیں۔اب بھی میں چاہتا ہوں کہ وہ طریق جاری ہو جائے تا کہ جب آپ لوگ جائیں تو اپنے گھروں میں ان نوٹوں کے ذریعہ سے وہ تقریر سنا ئیں اور کہیں کہ یہ تقریر ہم سن کے آئے ہیں۔چاہے ہم نے ساری نہیں لکھی پر جتنی لکھی ہے وہ تم سن لو۔اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ کتاب پیچھے پہنچے گی اور تقریر پہلے پہنچ جائے گی۔اور ان لوگوں کو بھی زیادہ سے زیادہ واقفیت