انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 16

انوار العلوم جلد 26 16 افتتاحی تقریر جلسه سالانه 1956ء ان خیالات سے ہوتی جائے گی جو اُن کا امام اس وقت اُن تک پہنچانا چاہتا ہے۔اور پھر انعام کی جو عزت ہے اور سلسلہ کی کتابوں میں جو برکت ہے وہ بھی ان کو نصیب ہو جائے گی۔اب میں دعا کر دیتا ہوں۔باہر سے مختلف مشنوں کی تاریں آئی ہوئی ہیں۔امریکہ سے بھی ، یورپ سے بھی اور مشرقی ایشیا سے بھی۔اسی طرح انڈونیشیا اور سنگا پور وغیرہ سب جگہ سے تاریں آئی ہیں۔اور بورنیو سے بھی تار آئی ہے کہ ہمیں بھی دعاؤں میں یاد رکھا جائے۔ہندوستان سے بھی تاریں آئی ہیں اس لئے اپنے ہندوستان کے دوستوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھو۔انڈونیشیا کی جماعت کو بھی یاد رکھو اور افریقہ کی جماعتوں کو بھی جومل کر پاکستان کے دوسرے نمبر پر بن جاتی ہیں کیونکہ کئی ممالک ہیں اگر ان کی ساری جماعتیں جمع کی جائیں تو غالباً پاکستان سے دوسرے نمبر پر ہوں۔تیسرے نمبر پر انڈونیشیا ہے اور چوتھے نمبر پر یورپ اور امریکہ کی جماعتیں اور مڈل ایسٹ کی جماعتیں مل کر بنتی ہیں۔ان سب جماعتوں کی طرف سے تاریں آئی ہیں۔سو سب کے لئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے اور نصرت کرے۔اور اس جلسہ میں بوجہ دُوری کے جو شامل نہیں ہو سکے خدا تعالیٰ اس جلسہ کی برکات اُن کو بھی دے۔اور اللہ تعالیٰ رات کو جو اپنے فرشتے تم پر اتارے وہ اُن پر بھی اتارے اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں وہ آجائیں اور دن دونی اور رات چوگنی ترقی کا نظارہ دیکھیں۔اور خدا کرے کہ جو ہمارے ملک میں جماعت ہے اس سے بھی ہزاروں گنا زیادہ وہاں جماعتیں ہوں۔اور ہماری جماعت جو یہاں ہے وہ اتنی بڑھ جائے کہ ہندوستان اور پاکستان کے چپہ چپہ پر پھیل جائے اور اس طرح اُن ممالک میں بھی جماعتیں پھیل جائیں۔انڈونیشیا سے تار آئی ہے کہ ہمارا جلسہ سماٹرا میں قرار پایا تھا مگر سماٹرا میں بغاوت ہوگئی ہے اور وہاں کے فوجی گورنر نے حکومت خود سنبھال لی ہے۔اس لئے ہمیں جلسہ ملتوی کرنا پڑا بلکہ حالات ایسے خطر ناک تھے کہ تار میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہم جہاز میں اُس وقت سماٹرا جانے کے لئے سوار تھے اس وقت تک ہم سب خیریت سے ہیں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم کو آئندہ بھی خیریت سے رکھے۔سوان کے لئے بھی جو آئے ہیں۔اور ان بھائیوں کیلئے بھی جو نہیں آئے یا نہیں آسکے۔اور اپنی مستورات کے لئے بھی کہ جن کو بچوں کی وجہ سے رات کو زیادہ تکلیف پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو اور بھی مضبوط کرے اور