انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 538

انوار العلوم جلد 26 538 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش سلام۔۔رض چاہیں گے تو وہ نہیں چھپے گا بلکہ تاریخ کے صفحات پر ان واقعات کو نمایاں حروف میں لکھا جائے گا۔اس نقطہ نگاہ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں آپ کی توجہ اس امر کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو آپ نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے ایک لشکر رومی حکومت کے مقابلہ کے لئے تیار کیا اور حضرت اسامہ بن زید کو اس کا سردار مقرر فرمایا۔ابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور سوائے مکہ اور مدینہ اور طائف کے سارے عرب میں بغاوت رونما ہوگئی۔اُس وقت بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ نے مل کر مشورہ کیا کہ اس موقع پر اسامہ کا لشکر باہر بھیجنا درست نہیں کیونکہ ادھر سارا عرب مخالف ہے اُدھر عیسائیوں کی زبر دست حکومت سے لڑائی شروع کر دی گئی تو نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلامی حکومت درہم برہم ہو جائے گی۔چنانچہ انہوں نے ایک وفد حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں روانہ کیا اور درخواست کی کہ یہ وقت سخت خطرناک ہے اگر اسامہ کا لشکر بھی عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے چلا گیا تو مدینہ میں صرف بچے اور بوڑھے رہ جائیں گے اور مسلمان عورتوں کی حفاظت نہیں ہو سکے گی۔اے ابو بکر ! ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ آپ اس لشکر کو روک لیں اور پہلے عرب کے باغیوں کا مقابلہ کریں۔جب ہم انہیں دبا لیں گے تو پھر اسامہ کے لشکر کو عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا جا سکتا ہے۔اور چونکہ اب مسلمان عورتوں کی عزت اور عصمت کا سوال بھی پیدا ہو گیا ہے اور خطرہ ہے کہ دشمن کہیں مدینہ میں گھس کر مسلمان عورتوں کی آبروریزی نہ کرے اس لئے آپ ہماری اس التجا کو قبول فرماتے ہوئے جیش اسامہ کو روک لیں اور اسے باہر نہ جانے دیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی منکسرانہ حالت کا اظہار کرنا چاہتے تو اپنے آپ کو اپنے باپ سے نسبت دے کر بات کیا کرتے تھے۔کیونکہ ان کے باپ غریب آدمی تھے اور چونکہ ان کے باپ کا نام ابو قحافہ تھا اس لئے اس موقع پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ کیا ابو قحافہ کا بیٹا خلافت کے مقام پر فائز ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو آخری مہم تیار