انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 539

انوار العلوم جلد 26 539 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش کی تھی اسے روک دے؟ پھر آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! اگر کفار مدینہ کو فتح کرلیں اور مدینہ کی گلیوں میں مسلمان عورتوں کی لاشیں گنتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔یہ لشکر جائے گا اور ضرور جائے گا۔یہ مثال بیان کرنے کے بعد میں نے دوستوں سے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ لوگوں کا بھی یہ پہلا اجتماع ہے۔آپ لوگ غور کریں اور سوچیں کہ آئنده تاریخ آپ کو کیا کہے گی۔تاریخ یہ کہے گی کہ حضرت ابو بکڑ نے ایسے خطرہ کی حالت میں جبکہ تمام عرب باغی ہو چکا تھا اور جبکہ مدینہ کی عورتوں کی حفاظت کے لئے بھی کوئی مناسب سامان اُن کے پاس نہ تھا اتنا بھی پسند نہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک تیار کئے ہوئے لشکر کو روک لیں بلکہ آپ نے فرمایا کہ اگر مسلمان عورتوں کی لاشیں گنتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو منسوخ نہیں کروں گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے اڑھائی سال پہلے دسمبر 1905ء کے جلسہ سالانہ پر تمام جماعت کے دوستوں سے مشورہ لینے کے بعد جس دینی مدرسہ کو قائم فرمایا تھا اور جس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ وہ عبد الکریم صاحب سیالکوٹی اور مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کی یادگار ہوگا اور سلسلہ کی ضروریات کے لئے علماء تیار کرنے کا کام اس کے سپر د ہو گا اسے مسیح موعود کی جماعت نے آپ کے وفات پانے کے معا بعد تو ڑ کر رکھ دیا۔کیونکہ جس طرح جیشِ اسامہ کی تیاری کا کام خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اُسی طرح مدرسہ دینیات کا اجراء خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی آخری عمر میں فرمایا تھا۔پس دنیا کیا کہے گی کہ ایک مامور کی وفات کے بعد تو اُس کے متبعین نے اپنی عزتوں کا برباد ہونا پسند کر لیا مگر یہ برداشت نہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم باطل ہو لیکن دوسرے مامور کے متبعین نے باوجود اس کے کہ ان کے سامنے کوئی حقیقی خطرہ نہ تھا اس کے ایک جاری کردہ کام کو اس کی وفات کے معا بعد بند کر دیا۔جب میں نے یہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام لوگوں کے قلوب کو میری