انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 537

انوار العلوم جلد 26 537 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش آج بھی ایسے بیسیوں لوگ زندہ ہوں گے جو یہ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب وفات پاگئے تو انہی غیر مبایعین کے سر کردہ اصحاب نے جو اُس وقت صدر انجمن احمد یہ پر قابض تھے یہ فیصلہ کیا کہ سلسلہ کا جو روپیہ علماء تیار کرنے پر خرچ ہو رہا ہے یہ بے فائدہ ہے۔مدرسہ احمدیہ کو بند کر دینا چاہئے اور صرف ہائی سکول میں دینیات کی تعلیم رکھ کر گزارہ کرنا چاہئے۔چنانچہ انہوں نے تمام جماعتوں کو ایجنڈا بھیجا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد پہلے جلسہ کے موقع پر ہی جب تمام جماعتوں کے نمائندے اکٹھے ہوئے انہوں نے مسجد مبارک میں ایک جلسہ کیا اور ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی تقریر کی اور کہا کہ اب ہمیں کسی نئے مسئلہ کی ضرورت نہیں کہ علماء تیار کرنا ہمارے لئے ضروری ہو۔بہتر ہے کہ مدرسہ احمدیہ کو بند کر دیا جائے اور لڑکوں کو وظائف دے کر سکولوں اور کالجوں میں بھیجا جائے اور انہیں ڈاکٹر اور وکیل بنایا جائے۔ان تقریروں کا ایسا اثر ہوا کہ قریباً تمام جماعت اُدھر چلی گئی اور اُن میں اِس قدر جوش بھر گیا کہ میں سمجھتا ہوں اگر مدرسہ احمدیہ کوئی آدمی ہوتا تو وہ اُس کا گلا گھونٹ دیتے۔ابھی یہ تقریریں ہو ہی رہی تھیں کہ میں بھی وہاں جا پہنچا۔اُس وقت میری عمر بیس سال کی تھی۔ساری جماعت ایک طرف تھی اور چونکہ بہت سی تقریریں ہو چکی تھیں اس لئے لوگ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ اب مزید تقریروں کی ضرورت نہیں۔اس بات کا فیصلہ کر دیا جائے کہ مدرسہ احمدیہ کو بند کیا جاتا ہے۔جب میں نے اُس مجلس کی یہ حالت دیکھی تب میرے نفس نے مجھے کہا کہ اگر آج تو نے کچھ نہ کہا اور اس موقع پر نہ بولا تو پھر کب بولے گا۔چنانچہ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔اُس وقت مجھے بعض آواز میں بھی آئیں کہ اب تقریریں بہت ہو چکی ہیں مگر میں نے اُن آوازوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ آپ نے جو کچھ فیصلہ کیا ہے یہ آپ کے خیال میں ٹھیک ہوگا۔مگر ایک چیز ہے جو اے جماعت احمدیہ کے لوگو! میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ کہ ہمارے کام آج ختم نہیں ہو جائیں گے بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں سال تک ان کا اثر چلتا چلا جائے گا۔اور دنیا کی نگاہیں ان پر ہوں گی۔اور اگر ہم کسی کام کو چھپانا بھی