انوارالعلوم (جلد 26) — Page 409
انوار العلوم جلد 26 409 سیر روحانی (12) مجھے اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی زندگی کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔میں ابھی بچہ تھا کہ حضرت صاحب کسی گواہی کے لئے ملتان تشریف لے گئے۔میں نے اصرار کیا اور مجھے بھی آپ اپنے ساتھ لے گئے۔واپسی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چند دنوں کے لئے لاہور میں ٹھہر گئے۔ایک دفعہ آپ بعض دوستوں کے ساتھ لاہور میں سے گزر رہے تھے کہ کسی نے آپ کو پیچھے سے زور سے دھکا دیا۔اور آپ گر گئے۔خدا تعالیٰ مغفرت فرمائے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑی محبت تھی وہ اگر چہ غیر مبائع ہو گئے تھے مگر جب وہ مرض الموت سے بیمار ہوئے تو میں نے خاں صاحب مولوی ذوالفقار علی خان صاحب گوہر رامپوری مرحوم کو ان کے پاس عیادت کے لئے بھیجا۔انہوں نے کہا میری طرف سے میاں صاحب کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ دیں اور کہہ دیں کہ میں دل سے آپ کو مانتا ہوں۔میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے کسی نے خواجہ کمال الدین صاحب کو بُرا بھلا کہا۔مولوی محمد علی صاحب کو بُرا بھلا کہا۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بُرا بھلا کہا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاموش رہے۔لیکن جب اس نے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کو بُرا بھلا کہا تو آپ نے فرمایا نہیں نہیں اس کو بُرا نہ کہو وہ تو بڑا مخلص انسان ہے۔چنانچہ وفات کے وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں تو بہ کی توفیق دے دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان سے بہت محبت کرتے تھے اور وہ سیٹھ عبدالرحمان اللہ رکھا صاحب کے بعد جماعت میں سب سے زیادہ قربانی کرنے والے تھے۔آگے اُن کی اولا د احمدیت میں کمزور ہو گئی ہے لیکن اب اس جلسہ پر مہمانوں کے ٹھہرانے کے لئے جو خیمے وغیرہ لگے ہوئے ہیں یہ ان کے ایک پوتے نے کرایہ پر دیئے ہیں۔پہلے تو ان کا انگلش وئیر ہاؤس تھا جو انگریزی فرنیچر اور لباس کی بڑی زبر دست فرم تھی مگر اب ان کے ایک بیٹے نے خیموں اور قناتوں کی دکان نکالی ہے۔ان کا بیٹا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم نے خیموں وغیرہ کے کرایہ پر دینے کا کام شروع کیا ہے۔جلسہ سالانہ پر خیموں کا سامان آپ ہم سے کیوں نہیں لیتے ؟ میں نے ناصر احمد جو افسر جلسہ سالانہ ہیں کو لکھا کہ یہ پرانا احمدی خاندان ہے خیمے وغیرہ انہی سے