انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 410

انوار العلوم جلد 26 410 سیر روحانی (12) لیں۔بلکہ یہ اگر کچھ زیادہ پیسے مانگیں تب بھی زیادہ پیسے دے دیں۔چنانچہ انہیں ٹھیکہ د۔دیا گیا اور یہ خیمے اور قناتیں سب انہی نے مہیا کی ہیں۔بہر حال میں بتا رہا تھا کہ لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دن جار ہے تھے کہ ایک آدمی نے آپ کو پیچھے سے دھکا دے دیا اور آپ گر گئے۔شیخ رحمت اللہ صاحب ساتھ تھے ان کو غصہ آ گیا اور وہ پیچھے مڑ کر اُس شخص کو مارنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھ لیا اور فرمایا اس کو مت مارو۔اس نے جو کچھ کیا ہے سچ سمجھ کر کیا ہے۔وہ دراصل مدعی نبوت تھا آپ نے فرمایا اس نے سمجھا ہے کہ ہم ظالم ہیں اور اس کا حق مار رہے ہیں اس لئے اس نے دھکا دے دیا۔اگر یہ ہمیں سچا سمجھتا تو ایسا کیوں کرتا۔بعد میں اس شخص کے بھائی نے بیعت کر لی۔پیغمبر اسنگھ اس کا نام تھا اور بڑا اخلاص رکھتا تھا۔وہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں جب بھی قادیان آیا کرتا تھا ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ میرا بھائی بعد میں ساری عمر شرمندہ رہا اور کہتا تھا کہ مجھ سے بڑی سخت غلطی ہوئی کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کو دھکا دے دیا۔آپ میرے بھائی کے لئے دعا کریں کہ خدا اسے معاف کرے۔اُس نے حضرت مسیح موعود ة والسلام ایک دفعہ وہ دو آدمی میرے پاس لائے اور کہنے لگے میری جسمانی اولا د تو کوئی نہیں انہیں میری روحانی اولا دسمجھ لیں۔میں نے ان کو تبلیغ کی ہے اور اب یہ آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عمل بھی یہی تھا کہ رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے۔ہماری جماعت میں ایک دوست عبد اللہ پر وفیسر تھے وہ تاش وغیرہ کے تماشے دکھایا کرتے تھے اور لوگ انہیں پروفیسر کہا کرتے تھے، وہ بہت جو شیلے تھے، گورداسپور میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مقدمہ چلا اور مشہور ہوا کہ مجسٹریٹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قید کی سزا دے گا تو انہیں غصہ آ گیا اور انہوں نے پتھر اٹھالئے اور کہنے لگے ان پتھروں سے میں اس مجسٹریٹ کا سر پھوڑ دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس کا علم ہوا تو آپ نے ایک آدمی مقرر کیا اور اسے ہدایت کی کہ وہ پروفیسر صاحب کو پکڑے