انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 345

انوار العلوم جلد 26 345 سیر روحانی (11) مجھے خلیفہ بنایا ہے حالانکہ میرے باپ سے وہ شخص بہتر تھا جس کو میرے باپ نے مارا۔اور میرے دادا سے وہ شخص بہتر تھا جس سے اُس نے جنگ کی اور مجھ سے بیسیوں اور لوگ تم میں بہتر موجود ہیں ان لوگوں کے ہوتے ہوئے میں کیسے خلیفہ بن سکتا ہوں ؟ تمہیں اختیار ہے جس کو چا ہو خلیفہ بنالو۔جب وہ تقریر کے بعد واپس آیا تو اُس کی ماں اُسے کہنے لگی کہ اے معاویہ ! تو نے اپنے خاندان کو بٹہ لگا دیا ہے۔معاویہ نے کہا۔اماں ! میں نے بڑے نہیں لگایا۔میں نے اپنے خاندان کی عزت کو قائم کر دیا ہے۔35 اب دیکھو وہ اس صحابی کا نمونہ تھا اور یہ خود یزید کے خاندان کا نمونہ ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمک خواری کا اُن پر کتنا اثر تھا۔یزید کے اپنے بیٹے نے باپ کی ذلت کی اور اُس کی خلافت پر لعنت ڈالی اور کہا کہ یہ خلافت خاندانِ نبوی کا حق ہے میں اسے نہیں لے سکتا۔قرآنی لنگر کی ایک اور مثال حضرت قرآنی نظر کی ایک مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی۔مسیح موعود علیہ السلام کے وجود میں پائی جاتی ہے۔گو آپ چھ گاؤں کے مالک تھے مگر طبیعت میں فروتنی تھی اور آپ نے اپنی ساری جائداد اپنے بڑے بھائی کی بیوہ کے سپرد کی ہوئی تھی تا کہ اُس کے دل سے بیوگی کا صدمہ کم ہو جائے۔وہ اگر چہ بعد میں احمدی ہو گئیں مگر شروع میں اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑا بغض تھا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ یہ کوئی بڑا کام نہیں کر رہا بلکہ مسجد کا ملاں بن گیا ہے اور ایک رئیس خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے اُن کو یہ بُرا لگتا تھا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ مسجد کے ملاں نہیں بنے تھے بلکہ آپ قرآنی لنگر سے استفادہ کرنے کے لئے دنیا سے علیحدہ ہو گئے تھے۔مگر ظاہری حالت یہ تھی کہ اپنی بڑی بھاوج کے بغض کی وجہ سے جب کبھی کوئی مهمان دین سیکھنے کے لئے آپ کے پاس آتا تو بھاوج کا خست 36 سے بھیجا ہوا تھوڑا سا کھانا بھی آپ مہمان کو کھلا دیتے تھے اور خود ایک پیسہ کے چنے بھنو ا کر کھا لیتے تھے۔حضرت تائی صاحبہ کی کیفیت مجھے یاد ہے اس وقت ہماری سیڑھیاں ان کے گھر کے پاس سے گزرا کرتی تھیں۔ایک دن