انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 346

انوار العلوم جلد 26 346 سیر روحانی (11) میں اُن سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا کہ انہوں نے مجھے آواز دی کہ محمود! ٹھہر جا۔میں اُن کی آواز سن کر بھاگا کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہماری دشمن ہیں اور بھاگ کر کوٹھے پر چڑھ گیا۔اس پر وہ کہنے لگیں۔جیہو جیہا کاں او ہو جیہی کو کو “ یعنی جیسا ان کا باپ خراب ہے ویسا ہی بیٹا خراب ہے۔اتنا بغض تھا ان کے دل میں۔مگر پھر اُن کی یہ حالت ہوئی کہ یا تو وہ کہا کرتی تھیں۔جیہو جیہا کاں او ہو جیہی کو کو۔“ اور یا پھر عین اُن کی موت کے وقت میں اُن کی خبر لینے کے لئے گھر پہنچا۔کہنے لگیں اُن کو بُلا دو۔میری جان نہیں نکلے گی جب تک وہ آ نہ جائیں۔میں گیا تو چار پائی پر انہیں لیٹا یا ہو ا تھا۔میں زمین پر ہی بیٹھ گیا۔میرے زمین پر بیٹھنے پر جھٹ اپنے پیر انہوں نے نیچے کرنے شروع کر دیئے اور کہا کہ زمین پر نہ بیٹھو میں چار پائی پر نہیں لیٹ سکتی۔اب یا تو وہ وقت تھا کہ ”جیہو جیہا کاں او ہو جیہی کوکو ، کہتی تھیں اور یا پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اُن کے ظلم سہتے ہوئے گزر گئے اور "کوکو" - کا ادب شروع ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیٹ کی بیماری سے فوت ہوئے تھے اور اسہال کی آپ کو شکایت تھی۔آپ کی وفات کے بعد مجھے خیال آیا کہ ممکن ہے متواتر چنے کھانے کی وجہ سے آپ کی صحت خراب ہو گئی ہو۔اب تو وہ زمانہ گزر گیا لیکن اگر ہم اُس زمانہ میں ہوتے تو اپنی جانیں قربان کر کے بھی آپ کے لئے کھانا مہیا کرتے اور چنے نہ کھانے دیتے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں ماش کی دال کھا رہا تھا کہ مجھے دال کھاتے ہوئے حضرت خلیفہ اول نے دیکھ لیا اور فرمانے لگے۔میاں ! دال بھی کوئی کھانے کی چیز ہوتی ہے۔خبردار! پھر کبھی دال نہ کھانا۔مگر اُدھر خدا کا مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) ایسا تھا کہ اٹھائیس تیس سال اس کی زندگی کے ایسے گزرے ہیں جن میں وہ روزانہ پیسے کے چنے بھنوا کر کھا لیتا تھا اور اپنا کھانا لوگوں کو کھلا دیتا جو دین سیکھنے کے لئے آتے تھے۔جب بعد میں اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر خدائی انعامات سر فضل آپ پر نازل کے ہونے شروع ہوئے اور قرآنی لنگر نے آپ کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے تو آپ