انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 344

انوار العلوم جلد 26 344 سیر روحانی (11) مجھے پانی پلا دے۔آپ نے کسی خادمہ کو کہا کہ اسے پانی پلا دو، اُس نے کٹورہ لیا اور کھنگال کے پانی بھر کے دے دیا۔وہ بڑے غصہ سے کٹورہ پھینک کر کہنے لگی۔تینوں نہیں پتا میں سیدانی ہوں۔سیدانی نوں امتی دے کٹورے وچہ پانی پلانی ایں۔خیر اس نوکرانی نے ہنس کر کہا کہ ا یہ امتی نہیں ایہ بھی سیدانی ہیں۔اب یہ سید کی عزت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہی تھی ورنہ انہیں کون پوچھتا تھا۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لنگر تھا کہ جس نے آپ سے تعلق قائم کیا وہ معزز ہو گیا۔دیکھ لو۔حضرت امام حسنؓ اور حسین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تھے۔حضرت امام حسین کوفہ کے پاس جنگ میں مارے گئے تو زیاد نے حکم دیا کہ ان کا سرکاٹ کر یزید کے پاس بھیجا جائے۔اُس نے سمجھا کہ مجھے انعام ملے گا۔جب یزید کے دربار میں اُن کا سر گیا تو یزید کے دل میں جیسا کہ اُس کی بعض باتوں سے پتا لگتا ہے اہلِ بیت کا کچھ نہ کچھ ادب تھا مگر اُس وقت اپنی فاتحانہ شان کو دیکھ کر کہ میری فوجیں فاتح ہوئی ہیں، اُس نے سوئی لمبی کی اور اُن کے دانتوں پر دو تین دفعہ ماری۔مرنے کے بعد عام طور پر انسان کے ہونٹ کھینچ جاتے ہیں۔اُس وقت ایک صحابی بھی اُس مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے وہ غصہ سے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے۔" او بے شرم ! ہٹالے اپنی سوئی۔میں نے محمد رسول اللہ کو ان ہونٹوں پر بوسہ دیتے دیکھا ہے اور جن ہونٹوں کو محمد رسول اللہ نے بوسہ دیا تھا تیرے جیسے خبیث کی کیا حیثیت ہے کہ اس کو سوئی مارے۔34 پھر دیکھ لو خدا تعالیٰ نے اِس کا کس طرح انتقام لیا۔معاویہ بن یزید کی خلافت سے دست برداری یزید کے مرنے کے بعد اُس کا بیٹا معاویہ بن یزید تخت پر بیٹھا۔جسے اُس نے نامزد کر دیا تھا کہ میرے بعد یہ خلیفہ ہو۔جب وہ تخت پر بٹھا دیا گیا تو وہ گھر گیا اور دروازے بند کر کے بیٹھ گیا۔اس کے بعد اُس نے باہر کہلا بھیجا کہ یہ خلافت مسلمانوں کی امانت ہے میرے باپ کا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ خلیفہ بنا تا۔یہ تمہاری امانت ہے تم جس کو چاہو خلیفہ بنالو۔پھر اُس نے سب مسلمانوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی اور کہا کہ خلافت پر میرا کوئی حق نہیں۔تم کہتے ہو کہ میں خلیفہ ہوں کیونکہ میرے باپ نے