انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 322

انوار العلوم جلد 26 322 سیر روحانی (11) اتنا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس فرعون کے زمانہ میں حضرت موسی علیہ السلام پیدا ہوئے اُس کا نام رمسیس تھا اور جس فرعون کے زمانہ میں حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے اُس کا نام منفتاح تھا مگر لاشیں دونوں کی مل گئی ہیں۔ایک کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ رمسیس کی لاش ہے اور ایک کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ منفتاح کی لاش ہے۔اب خواہ رعمسیں کی لاش کو فرعون موسی کی لاش سمجھ لو یا منفتاح کی لاش کو زمانہ موسی کے فرعون کی لاش کہو بات تو وہی رہی جو قرآن نے کہی تھی اور پتا لگ گیا کہ جو کچھ قرآن نے کہا تھا وہ سچ تھا۔فرعون موسی کی لاش محفوظ رہی اور وہ اب تک محفوظ چلی آرہی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام دوسری مثال کے طور پر میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ پیش کرتا ہوں۔حضرت سلیمان علیہ السلام بائبل کے الزامات کے زمانہ کے کا فربھی اُن کو کافر کہتے تھے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَلكِنَّ الشَّيطِيْنَ كَفَرُوا 13 یعنی سلیمان نے ہرگز کفر نہیں کیا بلکہ اس کے دشمن جو خدا سے دُور تھے وہ سلیمان کو کا فرکہہ کے خود کافر ہو گئے تھے۔اس آیت میں تمہارے لئے بھی ایک بڑا بھاری نکتہ ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف شریعت والے نبی کا انکار کفر ہوتا ہے دوسرے نبیوں کا انکار کفر نہیں ہوتا مگر حضرت سلیمان کو نہ یہودی صاحب شریعت مانتے ہیں اور نہ مسلمان صاحب شریعت مانتے ہیں۔سب کہتے ہیں کہ وہ غیر شرعی نبی تھے۔مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ وَلَكِنَّ الشَّيْطِيْنَ كَفَرُوا جو لوگ اُس کے دشمن تھے اور کہتے تھے کہ اس نے کفر کیا ہے وہ خود کافر تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ غیر شرعی انبیاء کا انکا ر بھی کفر ہی ہوتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منکرین بھی اگر کہیں کہ مرزا صاحب تو شریعت لانے والے نبی نہیں تھے پھر اُن کے منکر کا فرکس طرح ہو گئے تو وہ اس بہانہ سے بچ نہیں سکتے۔مولوی محمد علی صاحب ہمیشہ زور دیا کرتے تھے کہ شریعت والے نبی کا انکار ہی کفر ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس آیت میں