انوارالعلوم (جلد 26) — Page 323
انوار العلوم جلد 26 323 سیر روحانی (11) صاف طور پر فرماتا ہے کہ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَلَكِنَّ الشَّيْطِينَ كَفَرُوا سليمان نے کفر نہیں کیا تھا بلکہ اس کے دشمنوں نے اُس کو کا فرکہہ کے خود کفر کیا۔پس جو شخص کسی سچے فرستادہ یا اُس کے ماننے والوں کو کافر کہتا ہے وہ قرآن کریم کی رُو سے خود کافر ہو جاتا ہے۔بلکہ اگر ان الفاظ پر زیادہ وسیع نظر سے غور کیا جائے تو درحقیقت اس کے یہ معنے بنتے ہیں کہ کوئی کافر کہے یا نہ کہے پھر بھی صرف انکار سے وہ کافر ہو جاتا ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن کریم نے تو یہ کہا ہے کہ سلیمان نبی تھا کا فرنہیں تھا مگر بائبل جو سلیمان کے وقت کی لکھی ہوئی ہے وہ کیا کہتی ہے؟ بائبل کی کتاب ”سلاطین" میں لکھا ہے :- ” جب سلیمان بڑھا ہو گیا تو اُس کی بیویوں نے اُس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اُس کا دل خداوند اپنے خدا کے ساتھ کامل نہ رہا۔‘ 14 گویا قرآن کریم تو بائیس سو سال بعد میں آنے کے باوجود کہتا ہے کہ سلیمان نے کوئی کفر نہیں کیا لیکن بائبل اُس زمانہ کی کتاب ہو کر کہتی ہے کہ سلیمان بڑھا ہو گیا تو اس کی بیویوں نے اُس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اُس کا اپنے خدا سے کامل تعلق نہ رہا۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کا روحانی کھانا کتنا مزیدار ہے اور بائبل کا کھانا کتنا خراب اور بدمزہ ہے۔وہ اپنے زمانہ کے متعلق لوگوں کو ایک خبر دیتی ہے اور جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا حضرت سلیمان پر یہ جھوٹا اتہام لگاتی ہے کہ اُس کی مشرک بیویوں نے اُس کا دل خدا تعالیٰ کی طرف سے پھیر دیا اور وہ غیر معبودوں کی عبادت کرنے لگا۔پھر لکھا ہے :- خداوند سلیمان سے ناراض ہوا۔15 گویا سلیمان نے صرف کفر ہی نہیں کیا بلکہ اس حد تک کفر کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کا مخالف ہو گیا اور وہ سلیمان سے ناراض ہوا۔کیونکہ اُس کا دل خداوند اسرائیل کے خدا سے پھر گیا تھا۔“ 16