انوارالعلوم (جلد 26) — Page 316
انوار العلوم جلد 26 316 سیر روحانی (11) اچھی گندم اس سال پیدا ہی نہیں ہوئی۔جس زمانہ میں گندم پیدا ہو رہی تھی اُن دنوں بے وقت بارشیں شروع ہو گئیں اور فصلیں سڑ گئیں۔پہلے سندھ میں مئی کے مہینہ میں گندم کاٹ لیا کرتے تھے مگر اس سال جولائی کے آخر تک نہیں کئی کیونکہ بارشوں کی وجہ سے موسم لمبا ہوتا چلا گیا۔یہی حال ربوہ میں بھی رہا۔پس جو چیز ہوئی ہی نہیں اس کے لئے شکایت کرنی بے جا ہے۔اس کے لئے تو دعا کرو کہ یہ عذاب جو ہمارے ملک پر کئی سال سے آیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دور فرمائے۔اب حالت یہ ہے کہ جو نئی گندم بوئی گئی ہے اس کے متعلق بھی گورنمنٹ کی رپورٹیں یہ ہیں کہ بہت کم گندم پیدا ہوگی۔ادھر امریکہ نے کہہ دیا ہے کہ ہم پہلے 9 کروڑ ٹن گندم پاکستان کو دیتے رہے ہیں مگر اب کے سال ہم نہیں دیں گے کیونکہ ہم نے بہت کوشش کی کہ پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں مگر پاکستان پھر بھی اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوا۔اس لئے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے سال ہم مدد نہیں دیں گے۔پس امریکہ سے جو گندم آنے کی امید تھی وہ بھی ختم ہوئی اور گوامریکن گندم خراب ہوتی تھی مگر پیٹ تو بھر جاتا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری گورنمنٹ چین سے، روس سے ، مصر سے ،ٹرکی سے اور ایران سے گندم منگوانے کی کوشش کرے گی مگر چین ،مصر اور ٹر کی اتنی گندم مہیا نہیں کر سکتے جتنی امریکہ مہیا کر سکتا ہے بلکہ امریکہ سے تیسرا حصہ بھی مہیا نہیں کر سکتے۔اگر اس نے کرسکتا 9 کروڑ ٹن مہیا کی تھی تو یہ ایک کروڑ ٹن بھی بمشکل مہیا کرسکیں گے۔اور جب اپنے ملک میں گندم نہیں ہوگی تو لازمی بات ہے کہ اگلا سال ہمارے ملک کے لئے نہایت تکلیف کا موجب ہو گا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کی بارشیں نازل کرے اور ہماری فصل کے اندر ایسی برکت رکھ دے کہ زمین اپنے اندر سے سونا نکال کر باہر پھینک دے اور ہمارے زمینداروں کی جو بُری حالت اس سال ہوئی ہے خدا تعالیٰ اس کو بدل کر نیک حالت میں تبدیل کر دے اور آئندہ سے ایسی برکتوں کا زمانہ شروع ہو جائے کہ یہ جو روزانہ طوفان آتے ہیں اور بے وقت بارشیں ہوتی ہیں اور فصلیں خراب ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ اس کو دور فرما دے۔“