انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 305

انوار العلوم جلد 26 305 سیر روحانی (11) سے اشتہار چھاپنے سے انکار کر دیا۔آخر میں نے ایک دستی پریس خریدا تا کہ اُس پر اشتہار چھاپ لیا جائے اور شہر میں تقسیم کر دیا جائے کہ فلاں وقت جلسہ ہو گا۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔وہ بھی اس کام میں میرے ساتھ شریک ہو گئے۔میں نے چاہا کہ پانچ سات سو یا ایک ہزار اشتہار نکل جائے تا کہ لوگوں کو توجہ پیدا ہومگر چونکہ یہ لمبا کام تھا اس لئے کام کرتے کرتے رات کے ساڑھے بارہ بج گئے۔جب رات کے ساڑھے بارہ بجے تو حافظ صاحب کہنے لگے کہ آپ کو تو معلوم نہیں کیا ہو گیا ہے کہ آپ اس کام کو چھوڑتے ہی نہیں۔میں تو اب سوتا ہوں۔یہ کہہ کر انہوں نے زمین پر سر رکھا اور سر رکھتے ہی اُن کے خراٹوں کی آواز آنے لگ گئی۔میں نے سمجھا کہ شاید مذاق کر رہے ہیں مگر جب ٹولا تو سچ سچ سوئے ہوئے تھے۔بہر حال دوسرے دن وہ اشتہار لوگوں میں بانٹا گیا۔اُنہی دنوں میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ میرے سامنے آیا ہے اور اس نے مجھے کہا ہے کہ تیرے راستہ میں بڑی مشکلات ہیں۔اُس وقت رؤیا میں مجھے نظر آیا کہ ایک پہاڑی ہے جس میں ایک راستہ بنا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ تم اس راستہ پر نیچے کی طرف چلے جاؤ۔وہ تمہاری منزل مقصود ہے۔لیکن راستہ میں تم کو بڑی بڑی بلائیں ملیں گی۔کبھی تو کئے ہوئے سر تمہارے سامنے آئیں گے جن کے ساتھ دھڑ نہیں ہوگا، کبھی دھڑ تمہارے سامنے آئیں گے اور ان کے سر نہیں ہوں گے۔وہ بلائیں تمہیں آکر ڈرائیں گی اور بعض دفعہ تم کو اپنی طرف بلائیں گی اور کہیں گی کہ ادھر آؤ مگر تم نے اُن کی باتوں کا جواب نہیں دینا۔تم اپنا کام کرتے چلے جانا اور یہ کہتے چلے جانا کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ، خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔چنانچہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ میری پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بالکل یہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ جب اس پیشگوئی کی شہرت کامل درجہ پر پہنچ گئی : ' تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے 12 جنوری 1889ء کو مطابق 9 جمادی الاوّل 1306ھ میں بروز شنبہ محمود پیدا ہوا۔“ 1 اور پھر آج تک میں جو بھی مضمون لکھتا ہوں اس کے اوپر اس خواب کے مطابق یہ