انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 304

انوار العلوم جلد 26 304 سیر روحانی (11) کہ ایسے پرانے مخلص لوگ بھی جو قادیان میں کئی کئی مہینے اپنی بیویوں کو اس لئے رکھتے تھے کہ وہ حضرت صاحب کی خدمت کریں اور ان کی ڈائری ہم کو بھیجا کریں وہ یہ کہنے لگ گئے تھے کہ اب تو احمدیت میں رہنا بڑا مشکل ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے ہیں اُس وقت میں باہر اپنی بڑی بیوی کو لینے کے لئے گیا ہوا تھا جو اپنی والدہ سے ملنے کے لئے مجھ سے چھٹی لے کر گئی ہوئی تھیں۔مگر اچانک حضرت صاحب کی وفات ہوگئی اور میں ایک ٹمٹم لے کر اور اس میں ان کو سوار کرا کے واپس لایا۔جب ہم وہاں پہنچے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو چکے تھے۔اُس وقت اس ڈاکٹر کی یہ بات سن کر کہ اب احمدیت میں کون رہ سکتا ہے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سرہانے کھڑا ہوا۔حضرت اماں جان ) تو اپنی ہمت کے مطابق یہ کہتی جاتی تھیں کہ اے خدا ! ہمارا آسرا ان پر نہیں تھا تجھ پر تھا۔یہ مر گئے ہیں مگر تو زندہ ہے۔اُمید ہے کہ تو ہمارا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔اور میرے دل میں اُس وقت جوش اٹھا اور میں نے کہا کہ اے خدا! مجھے یقین ہے کہ مسیح موعود سچا تھا۔اب یہ فوت ہو گیا ہے اور اب بظاہر اس کے مشن اور اس کی تعلیم کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں۔میں بچہ ہوں پر ، اے میرے خدا! میں تیری قسم کھا کے کہتا ہوں کہ اگر ساری دنیا نے اس سے منہ موڑ لیا تو میں اس سے منہ نہیں موڑوں گا اور میں اُس وقت تک چین نہیں لوں گا جب تک کہ ساری دنیا کو اس کے قدموں میں لا کر نہ ڈال دوں۔یہ پہلا فعل تھا جس کو دیکھ کر اب پتا لگتا ہے کہ در حقیقت اس سے میرے مصلح موعود ہونے کی طرف اشارہ ہوتا تھا۔گو میں نے اُس وقت اس سے یہ اشارہ نہیں سمجھا۔دوسری دفعہ پھر یہ بات اس طرح ظاہر ہوئی کہ میں 1913 ء میں شملہ گیا۔وہاں میرے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر گئے ہوئے تھے۔جماعت شملہ نے مجھے کہا کہ یہاں آپ ایک تقریر کریں۔اس تقریر کے نوٹ میں نے لکھے اور پھر اس خیال سے کہ اس جلسہ کے متعلق اشتہار بھی چھاپ دیں میں نے ارادہ کیا کہ ایک اشتہار چھپوا لیا جائے۔مگر جس پریس میں بھی میں گیا انہوں نے تعصب کی وجہ