انوارالعلوم (جلد 26) — Page 306
انوار العلوم جلد 26 ضرور لکھتا ہوں کہ : 306 ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ سیر روحانی (11) چنانچہ آج بھی جو نوٹ میرے پاس ہیں اُن پر بھی لکھا ہوا ہے کہ ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ اب دیکھو پر 1913 ء کا واقعہ ہے۔جس پر چوالیس سال گزر چکے ہیں مگر چوالیس سال میں میں نے کبھی اس طریق کو نہیں چھوڑا بلکہ اس کے بعد جو بھی میں نے تحریر لکھی یا تقریر کے نوٹ تیار کئے اُس کے اوپر میں نے یہ ضرور لکھا کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ هُوَ النَّاصِرُ ، میں اس لئے لکھا کرتا ہوں کہ خواجہ میر درد جن کا میں نواسہ ہوں ان کے والد خواجہ محمد ناصر صاحب کو خدا تعالیٰ نے الہاماً بتایا تھا کہ جو شخص اپنی کسی تحریر کی پیشانی پر هُوَ النَّاصِرُ لکھے گا اللہ تعالیٰ اُس تحریر کو مقبولیت عطا فرمائے گا۔2 اسی طرح جب ان پر آسمانی انوار کا دروازہ کھولا گیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ یہ ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی ہوئی تھی۔اس کی ابتداء تجھ سے ہوئی ہے اور انجام اس کا مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہوگا۔“ 3 یعنی آخری زمانہ میں مسیح موعود ظاہر ہوگا اور تیرا خاندان اس کے خاندان میں مل جائے گا۔چنانچہ حضرت اماں جان جو حضرت خواجہ میر درد کے خاندان میں سے تھیں جب ان کی شادی غیر معمولی حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہوئی تو خواجہ میر درد صاحب مرحوم کا خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے آکر مل گیا۔اور عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت سید احمد صاحب بریلوی کو تیرھویں صدی کا مجدد قرار دیا ہے۔4 اور ہمارے نانا جان صاحب مرحوم کی ایک بہن بھوپال میں ایک مولوی صاحب سے بیاہی گئی تھیں جو سید احمد صاحب بریلوی کے مرید تھے اور جن کو انہوں نے اپنا خلیفہ بنا کر بھوپال میں بھیجا تھا اور کہا تھا کہ وہاں جا کر حدیث کو رائج کرو۔مجھے جو خوا ہیں آئی تھیں میں نے انکی غلط تعبیر کی تھی۔میں نے سمجھا تھا کہ شاید میں ہی مہدی موعود ہوں مگر معلوم ہوتا ہے میں مہدی موعود نہیں اور چونکہ میرا وقت